30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذٰلك ففی ھذا مایدل علی انہ انما امتنع من الاستعانۃ بہ وبامثالہ ولم یمنعہم من القتال معہ باختیار ھم لذلك [1]۔ |
علیہ وسلم کے ساتھ ہولئے تھے حضورنے ان سے استعانت نہ فرمائی،اس میں دلیل ہے اس پر کہ حضور مشرکوں سے استعانت سے باز رہتے تھے اور وہ اپنے اختیار سے ہمراہی میں لڑیں تو اس میں منع نہ فرماتے تھے۔ |
اسی میں ہے:
|
حدثنا ابوامیۃ قال حدثناء بشربن عمرالزہرانی قال قلت لما لك الیس ابن شہاب کان یحدث ان صفوان بن امیۃ سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فشہد حنینا والطائف وھو کافر قال بلی ولکن ھو سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم یأمرہ رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بذٰلك [2]۔ |
ہم سے ابوامیہ نے حدیث بیان کی کہ ہم سے بشر بن عمر زاہرانی نے حدیث بیان کی کہ میں نے امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے گزارش کی کیا زہری یہ حدیث بیان نہ کرتے تھے کہ صفوان بن امیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس چل کر حنین وطائف کے غزووں میں بحالت کفر حاضر ہوئے،فرمایا ہاں مگر وہ خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ہمرکاب ہولئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے نہ فرمایا تھا۔ |
علامہ جلال الدین ابوالمحاسن یوسف حنفی معتصر میں فرماتے ہیں:
|
لامخالفۃ بین حدیث صفوان و بین قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانستعین بمشرك لان صفوان قتالہ کان باختیارہ دون ان یستعین بہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان الاستعانۃ بالمشرك غیر جائزۃ |
یعنی حدیث صفوان اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں کہ ہم کسی مشرك سے مدد نہیں لیتے کچھ مخالفت نہیں کہ صفوان کا قتال کو جانا اپنے اختیار سے تھا،نہ یہ کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے استعانت فرمائی ہے مشرك سے استعانت حرام ہے لیکن وہ خود لڑیں تو لڑنے دینا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع