30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اسہم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقوم من الیہود قاتلوا معہ [1]۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو جنھوں نے ہمراہ رکاب اقدس قتال کیا تھا حصہ عطا فرمایا۔ |
اس سے استعانت کہاں ثابت،ممکن کہ انھوں نے بطور خود قتال کیا ہو،اورپانچواں جواب امام طحاوی سے آتاہے کہ سرے سے قاطع استناد ہے۔
صفوان بن امیہ سے استعانت کے روشن جواب:
رہا قصہ صفوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان کا قبل از اسلام غزوہ حنین شریف میں ہمراہ رکاب اقدس ہونا ضرور ثابت ہے مگر ہر گز نہ ان سے قتال منقول نہ یہی کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے قتال کو فرمایا ہو صرف اس قدر ہے کہ سو زرہ خود بکتر اور ایك روایت میں چار سو ان سے عاریۃً لئے اور وہ بطمع پرورش سرکار عالم مدار کہ مؤلفۃ القلوب سے تھے ہمراہ لشکر ظفر پیکر ہولئے ان کی مراد بھی پوری ہوئی اور اسلام بھی پختہ راسخ ہوگیا سرکار اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غنائم سے اتنا عطا فرمایا اتنا عطا فرمایا کہ یہ بے اختیا رکہہ اٹھے:
|
واﷲ ماطابت بھذا الا نفس نبی [2]۔ |
خدا کی قسم اتنی عطائیں خوش دلی سے دینا نبی کے سوا کسی کاکام نہیں۔ |
اشھدان لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد ا عبدہ ورسولہ(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)
امام ابن سعد طبقات پھر حافظ الشان عسقلانی اصابہ فی تمییز الصحابہ میں انہی صفوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
|
لم یبلغنا انہ غزا مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [3]۔ |
ہمیں روایت نہ پہنچی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسل کی ہمراہی میں جہاد کیا ہو۔ |
امام طحاوی مشکل الآثارمیں فرماتے ہیں:
|
صفوان کان معہ لاباستعانتہ ایاہ منہ فی |
یعنی صفوان خود ہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع