30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الذی روی مالك کماروی رد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مشرکا ومشرکین فی غزوۃ بدر وابی ان یستعین الابمسلم ثم استعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد بدر فی غزوۃ خبیر بیھود من بنی قینقاع کانوا اشداء واستعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غزوۃ حنین سنۃ ثمان بصفوان بن امیۃ وھو مشرك فالرد الاول ان کان بان لہ الخیار بان یستعین بمشرك و ان یردہ"کما لہ رد المسلم"من معنی مخافۃ اولشدۃ بہ فلیس واحد من الحدیثین مخالفا للاخر وان کان ردہ لانہ لم یر ان یستعین بمشرك فقد نسخہ مابعدہ من استعانتہ بالمشرکین اذا خرجوا طوعا ویرضخ لہم ولا یسہم لہم ولا یثبت عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اسہم لہم انتہی [1]۔ |
کہ وہ جو امام مالك نے روایت فرمایا وہ ویسا ہی ہے جیسا انھوں نے روایت فرمایا،غزوہ بدر میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك مشرك اور دومشرکوں کو واپس فرمادیا اور غیر مسلم سے استعانت کرنا قبول نہ فرمایا،پھر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے بعد غزوہ خیبر میں بنی قینقاع کے کچھ یہودیوں سے کام لیا کہ زورآور تھے اور سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے جس وقت میں کہ وہ مشرك تھے کچھ امداد لی تو پہلا رد فرمادینا اگر اس بنا پر تھا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اختیار تھاکہ کسی مشرك سے کام لیں یا اسے واپس فرمادیں جیسا کہ انھیں مسلمان کے واپس فرمادینے کا اختیار ہے اس پر کسی خوف یا مشقت کے باعث،جب تو حدیثوں میں باہم کچھ اختلافات ہی نہیں اور اگر وہ واپس فرمادینا اس بناء پر تھاکہ حضو ر نے مشرك سے مددلینا ناجائز جانا توبعد کے واقعہ نے کہ مشرکوں سے کام لیا اسے منسوخ کردیا اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ مشرکوں سے لڑنے میں مشرکوں سے مدد لے جبکہ وہ اپنی خوشی سے لڑنے کوچلیں اور غنیمت میں سے انھیں کچھ تھوڑا سا دیا جائے پوراحصہ نہ دیا جائے اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں کہ حضور نے انھیں پورا حصہ دیا ہوا نتہی(یہ تمام کلام امام شافعی کاہے)۔ |
اس کے بعد جو فقرہ فتح میں ہے وہ بھی زیر قال الشافعی داخل،ا ور انھیں کا قول ہے جسے بیہقی شافعی نے ان سے روایت کیا۔ نصب الرایہ میں ہے:
[1] نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی۳/ ۴۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع