30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علی الاطلاق نے فتح القدیر میں انھیں ذکرکرکے فرمایا:
|
ولاشك ان ھذہ لاتقاوم احادیث المنع فی القوۃ فکیف تعارضھا [1]۔ |
کوئی شك نہیں کہ یہ روایتیں قوت میں احادیث منع کو نہیں پہنچتیں توکیونکر انکے معارض ہوسکتی ہیں۔ |
خودابوبکر حازمی شافعی نے کتاب الاعتبار میں حدیث صحیح مسلم دربارہ ممانعت روایت کرکے کہا:
|
وما یعارضہ لایوازیہ فی الصحۃ والثبوت فتعذرادعاء النسخ [2] |
اور اس کاخلا ف جن روایتوں میں آیا ہے وہ صحت وثبوت میں ان کے برابر نہیں تو ممانعت استعانت کومنسوخ ماننے کا ادعانا ممکن ہے۔ |
یہ اجمالی جواب بس ہے،اور مجمل کی تفصیل یہ کہ یہاں دو واقعے پیش کئے جاتے ہیں جن سے احادیث منع کو منسوخ بتاتے ہیں کہ وہ واقعہ بدرواُحد ہیں اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں کہ ان کے کئی برس بعد ہے بعض یہود بنی قینقاع سے یہود خیبر پر استعانت فرمائی پھر سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے اور وہ اس وقت مشرك تھے تو اگر ان پہلے واقعات میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مشرك یا مشرکوں کو رد فرمانا اس بناء پر تھا کہ حضور کو رد قبول کااختیارتھا جب تو حدیثوں میں کوئی مخالفت ہی نہیں اور اگر اس وجہ سے تھاکہ مشرك سے استعانت ناجائز تھی تو ظاہر ہے کہ بعد کی حدیث نے ان کو منسوخ کردیا یہ تمام وکمال کلام امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ہے کہ ان سے فتح اور فتح سے ردالمحتارمیں نقل کیا اور ناوافقوں نے نہ سمجھایہ بعینہٖ کتاب الاعتبار حازمی شافعی میں امام شافعی سے مروی ہے:
|
حیث قال قرأت علی روح بن بدر اخبرك احمد بن محمدبن احمد فی کتابہ عن ابی سعید الصیر فی اخبرنا ابوالعباس انا الربیع انا الشافعی قال |
میں نے روح بن بدر پر پڑھا کہ آپ کو احمد بن محمد بن احمد نے اپنی کتاب میں ابو سعید صیر فی سے خبر دی کہ انھوں نے کہا ہمیں ابوالعباس نے خبر دی کہ ہمیں ر بیع نے خبر دی کہ ہمیں امام شافعی نے خبر دی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع