30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:لاتستضیئوا بنار المشرکین [1]مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو۔امام حسن بصری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کے معنی پوچھے گئے،فرمایا:لاتستشیروا المشرکین فی شیئ من امورکم قال الحسن وتصدیق ذٰلك فی کتاب اﷲ" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًاؕ"[2]ارشاد حدیث کے یہ معنٰی ہیں کہ مشرکوں سے اپنے کسی معاملہ میں مشورہ نہ لو،پھر فرمایا اس کی تصدیق خود کلام اﷲ میں موجود ہے کہ فرمایا اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے۔
اقول: یہ حدیث بھی اصول حنفیہ کرام پر حسن ہے،طبری کے یہاں اس کی سند یہ ہے:
|
حدثنا ابوکریب ویعقوب بن ابراہیم قالا حدثنا ھشیم اخبرنا العوام بن حوشب عن الازہر بن راشد عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ [3]۔ |
ابوکریب اور یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا ہمیں ہشیم نے انھوں نے کہا ہمیں عوام بن حوشب نے ازہر بن راشد سے انھوں نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔(ت) |
ابوکریب سے عوام بن حوشب تك سب اجلہ مشاہیر ثقہ عدول،رجال جملہ صحاح ستہ سے ہیں اور ازہر بن راشد رجال سنن نسائی وتابعین سے ہیں ان پر کسی عــــہ امام معتمد سے کوئی جرح ثا بت نہیں اور
|
عــــہ:اماتضعیف ابن معین فلازہر بن راشد الکاھلی لافی ھذا البصری الراوی عن انس وقد فرق بینہما ابن معین فضعف الکاھلی لاھذا کما بینہ الحافظ المزی فی تھذیبہ والحافظ |
لیکن ابن معین نے ضعیف کہا ہے تو ازہربن راشد کاہلی کو کہا ہے اس بصری راشد کو جو انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہے کی بابت نہیں کہا،ابن معین نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے کاہلی کو ضعیف کہا ہے اس کو نہیں جیسا کہ حافظ مزی نے اپنی تہذیب (باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع