30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے معاہدین مستثنٰی ہیں۔تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
|
قال الطیبی لامن الضمیر فی ولاتتخذوا وان کان اقرب لان اتخاذ الولی منہم حرام مطلقا [1]۔ |
طیبی نے کہا دوست یا مددگار بنانے کی ممانعت سے استثناء نہیں اگرچہ وہ قریب تر ہے اس لئے کہ کافروں میں سے کسی کو دوست بنانا مطلقًا حرام ہے اگرچہ معاہد ہو۔ |
اقول: اس پر خود سیاق کریمہ دال کہ قتل وقتال ہی کے منع ورخصت کا ذکر ہے یونہی عموم حکم نفس استثناء کا مفاد کہ مجاہرین متصلین بالمعاہدین ومعاہدین غیر جانبدارطرفین مستثنٰی فرمائے واﷲ تعالٰی اعلم۔
استعانت بمشرکین کی تحریم پر صحیح حدیثیں:
فائدثانیہ:صحاح احادیث ناطق۔
حدیث ۱:صحیح مسلم وسنن اربعہ ومشکل الآثار امام طحاوی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے جب حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بدر کو تشریف لے چلے سنگستان وبرہ میں(کہ مدینہ طیبہ سے چار میل ہے)ایك شخص جس کی جرأت وبہادری مشہور تھی حاضرہوا،اصحاب کرام اسے دیکھ کر خوش ہوئے،اس نے عرض کی:میں اس لئے حاضر ہوا کہ حضو رکے ہمراہ رکاب رہوں اورقریش سے جو مال ہاتھ لگے اس میں سے میں بھی پاؤں،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اتؤمن باﷲ ورسولہ کیا تم اﷲ ورسول پر ایمان رکھتاہے ؟ کہا:نہ۔فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"تو پلٹ جا ہم ہر گز کسی مشر ك سے مدد نہ چاہیں گے۔پھر حضور تشریف لے چلے جب ذوالحلیفہ پہنچے(کہ مدینہ سے چھ میل ہے) وہ پھر حاضر ہوا،صحابہ خوش ہوئے کہ واپس آیا وہی پہلی بات عرض کی اورحضو رنے وہی جواب ارشاد فرمایا کہ کیا تو اﷲ ورسول پر ایمان لاتاہے؟ کہا:نہَ فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"واپس جا ہم ہر گز کسی مشرك سے مدد نہ لیں گے،پھر حضور تشریف لے چلے جب وادی میں پہنچے وہ پھر آیا اور صحابہ خوش ہوئے اس نے وہی عرض کی۔حضور نے فرمایا:کیا تو اﷲ و رسول پر ایمان لاتاہے؟ عرض کی:ہاں۔فرمایا:فنعم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع