30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی لا تتخذوھم اولیا ء ای لا تعتمدوا علی الاستنصار بھم ولا تتوددوا الیھم[1]۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ کافروں کی مدد ویاری پر اعتماد نہ کرو۔
تفسیر ابی السعود وتفسیر فتوحا ت الہیہ میں زیر آیہ مذکورہ ہے:نھوا عن موالاتھم لقرابۃ او صداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزو وسائر الامور الدینیۃ [2]۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری ہی ہو یا اسلام سے پہلے کا یارانہ یا کسی سبب یاری خواہ میل جول کے سبب اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کا م میں کافروں سے استعانت کریں۔
آیت نمبر ۴:
|
" فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَخُذُوۡہُمْ وَ اقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ ۪ وَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾ "[3] |
اگرکافر ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو دوست نہ بناؤ نہ مددگار۔ |
اس آیہ کریمہ میں ولی کے ساتھ لفظ نصیر خود ہی صاف ارشاد ہےکہ انھیں دوست ٹہہرانا بھی حرام اور مددگار بنانا بھی حرام ہے۔ تفسیر مدارك التنزیل میں ہے:
|
(فَاِنۡ تَوَلَّوْا)عن الایمان (فَخُذُوۡہُمْ وَ اقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ ۪ وَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا) وان بذلوا لکم الولایۃ والنصرۃ فلا تقبلوا منھم (اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوْ مٍۭ)ویتصلون بھم والاستثناء من قولہ فخذوھم واقتلوھم دون الموالاۃ [4]۔ |
اگروہ ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ مارو اور ان میں کسی کونہ دوست بناؤ نہ مددگار۔اور اگر وہ بلا معاوضہ بھی تمھاری دوستداری ومددگاری بگھاریں جب بھی قبول نہ کرو مگر جو اہل معاہدہ سے ملے یہ پکڑنے اور قتل کرنے سے استثناء ہے نہ دوستی سے کہ وہ تو ہر کافر سے مطلقًا حرام ہے۔ |
[1] مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)زیر آیہ لا تتخذواالیہودالخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۱۶
[2] ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)زیر آیہ لا یتخذالمؤمنون الکافرین اولیاء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲
[3] القرآن الکریم ۴/ ۸۹
[4] مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)زیر آیۃ۴/ ۸۹ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع