30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معی خمسمائۃ من الیھود وقدرأیت ان استظہربہم علی العدوفنزلت ھذہ الاٰیۃ وقولہ(لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ) الاٰیۃ یعنی انصار ا واعوانا(مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ)یعنی من غیر المؤمنین والمعنی لایجعل المؤمن ولایتہ لمن ہو غیر مؤمن نھی اﷲ المؤمنین ان یوالوا الکفار اویلا طفوھم لقرابۃ بینہم اومحبۃ اومعاشرۃ والمحبۃ فی اﷲ والبغض فی اﷲ باب عظیم واصل من اصول الایمان [1]۔
یعنی عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے کچھ یہودی حلیف تھے غزوہ احزاب میں انھوں نے عرض کی:یارسول اللہ! میرے ساتھ پانسویہود ی ہیں میری رائے ہوتی ہے کہ دشمن پر ان سے مددلوں،اس پر یہ آیہ کریمہ اتری کہ مسلمان غیرمسلم کو مدد گار نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کوحلال نہیں اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ رشتے،خواہ یارانے،خواہ نرے میل کے باعث کافروں سے دوستانہ برتیں یا ان سے لطف ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور اﷲ تعالٰی کے لئے محبت اور اﷲ تعالٰی کے لئے عداوت ایك عظیم باب اور ایمان کی جڑ ہے۔
مدارك شریف پار ہ ۶ میں ہے:
ای لاتتخذوھم اولیاء تنصرونہم تستنصرونھم وتوأخونہم وتعاشرونہم معاشرۃ المؤمنین [2]۔
یعنی رب عزوجل فرماتاہے کافروں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کے معاون ہو،اور ان سے اپنے لئے مدد چاہو انھیں بھائی بناؤ، دنیوی برتاؤ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سارکھو،اس سب سے منع فرماتاہے۔
تفسیر کبیرپارہ ۶ میں ہے:
المراد ان اﷲ تعالٰی امرالمسلم ان لایتخذالحبیب والناصر الامن المسلمین [3]۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو حکم فرماتاہے کہ صرف مسلمانوں ہی کو اپنا دوست مدد گار بنائیں۔اسی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع