30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یَتَّخِذُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ؕ اَیَبْتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۳۹﴾[1] |
دردناك عذاب ہے،وہ جو مسلمانوں کے سوا کافروں کو مددگار بناتے ہیں،کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں عزت تو ساری اﷲ کے قبضے میں ہے۔ |
ظاہر ہے کہ کمزوری میں کسی کی مدد چاہنے کا یہی مطلب ہوتاہے کہ ا س کے بل بازو سے ہمیں قوت ملے گی ہماری کمزوری وذلت،غلبہ وعزت سے بدلے گی،اﷲ عزوجل فرماتاہے:یہ ان کی بدعقلی ہے کافروں کی مدد سے غلبہ وعزت کی تمنا ہوس باطل ہے۔اورفرماتاہے کہ ایسا کرنے والے منافق ہیں اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔تفسیر ارشاد العقل السلیم میں اسی آیہ کریمہ کے تحت ہے:
|
بیان لخیبۃ رجائہم ایطلبون بموالاۃ الکفر القوۃ و الغلبۃ(فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۳۹﴾ؕ)تعلیل لبطلان رأیھم فان انحصار جمیع افراد العزۃ فی جنابہ عزوعلا بحیث لاینا لھا الا اولیاء ہ قال" وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ" یقضی ببطلان التعزز بغیرہ واستحالۃ الانتفاع بہ [2](مختصرا) |
اس آیت میں ان کی نامرادی کا بیان ہے جو کافروں سے استعانت کرتے ہیں،فرماتاہے کیا کافروں کی دوستی سے غلبہ وقوت چاہتے ہیں عزت تو ساری اﷲ کے لئے ہے اس میں ان کی رائے فاسد ہونے پر دلیل فرمائی کہ جب تمام عزتیں حضرت عزت کےلئے خاص ہیں کہ اس کے دوستوں کے سواکسی کو نہیں مل سکتیں کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے عزت صرف اﷲ تعالٰی ورسول اور مسلمانوں کے لئے ہے تو اس سے واجب ہو ا کہ غیروں سے عزت چاہنا باطل اور ان سے نفع پہنچنا محال(مختصرا) |
آیت نمبر ۳:
|
" لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ"[3] |
مسلمان،مسلمانوں کے سوا کافروں کو مدد گار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔ |
تفسیر لباب التاویل میں ہے: ان عبادۃ بن الصامت کان لہ حلفاء من الیھود فقال یوم الاحزاب یارسول اﷲ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع