30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیڈران نے اس آیہ کریمہ کو کیسا کیسا رد کیا کس کس طرح جھٹلایا:
یہ آیہ کریمہ اپنے ایك ایك جملے سے اس طوفان بدتمیزی کو جو آج مشرکین ہند سے لیڈران برت رہے ہیں رد فرماتی ہے:
ا۔حالت کمزوری وعجز میں مدد کے لئے جس کسی کی طرف التجا لائی جائے ضرور ہے کہ اسے اپنا رازد ار بنایا جائے اور رب عزوجل فرماتاہے:کسی کافر کو راز دار نہ بناؤ،یہ واحد قہار کی نافرمانی ہوئی،
ب۔ظاہر ہے کہ اسے اپنا خیرخواہ سمجھا گیاکہ بدخواہ کے دامن میں کوئی نہ چھپے گا اور رب عزوجل فرماتاہے:وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے،یہ اﷲ تعالٰی کی تکذیب ہوئی۔
ج۔مصیبت میں التجا واستمداد اسی سے ہوگی جسے جانا جائے کہ ہمیں مشقت سے بچائے گا،ا ور رب عزوجل فرماتاہے:ان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنا،یہ دوسری تکذیب ہوئی۔
د۔چھپا دشمن جس سے اثر عداوت کبھی ظاہر نہ ہوا آدمی ا س کے دھوکے میں آسکتاہے اور جس کے منہ سے بغض کھل چکا ا س سے قطعی احتراز کرے گا،رب عزوجل نے فرمادیا تھا کہ دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی پھر بھی ان کی محبت نے وہ اندھا بہر ا کردیا کہ نہ اﷲ تعالٰی کی سنی نہ ان کے منہ سے چھلکی یاد رہی۔
ہ۔اگر ایك خفیف حدکی مخالفت ورنجش ظاہر ہوتی اور اطمینان ہوتاکہ دل میں اس سے زائد نہیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی کہ یہ ہمارا
اس حد کا بدخواہ نہیں جوایسی بھاری مصیبت میں ساتھ نہ دے اس خیال ارذل کو رب عزوجل نے ان تینوں جملوں سے رد فرما دیا کہ وہ کوئی ہلکے مخالف نہیں تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے،یہ گمان نہ کرنا کہ وہ کسی سخت سے سخت مصیبت میں تم پر کچھ ترس کریں گے ان کی دلی تمناہے کہ تم مشقت میں پڑو کوئی خفیف رنجش ان کے منہ سے ظاہر نہ ہوئی بلکہ بغض اور پور ی دشمنی بَیر عداوت،اور اس پر چوتھا جملہ یہ ارشاد فرمادیا کہ ا س پر بس نہ جانو کہ ان کے دلوں کی دبی اور سخت ترہے مگر انھوں نے اس واحد قہار کریم مہربان پروردگار کی ایك نہ مانی اور جملے جملے کی تکذیب ہی ٹھانی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
آیت نمبر ۲:
|
" بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ الَّذِیۡنَ |
اے محبوب! خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع