30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
"ٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾"[1] |
اے ایمان والو! وہ جو تمھارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور باقی سب کافر ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ اور اﷲ تعالٰی سے ڈرو اگر تم مسلمان ہو۔ |
تفسیر ابن جریر میں اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہے:
|
یقول لاتتخذوھم ایھا المؤمنون انصارا اواخوانا اوحلفاء فانہم لایألونکم خبالا وان اظھروالکم مودۃ وصداقۃ [2]۔ |
رب عزوجل فرماتاہے اے مسلمانو! کافروں کو مدد گاریا بھائی اور حلیف نہ بناؤ وہ تمھاری ضرر رسانی میں کمی نہ کریں گے اگرچہ تم سے دوستی ویارانہ ظاہر کریں۔ |
فقہ وحدیث کے حاوی امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے مشکل الآثار میں یہ تحقیق فرماکر کہ مشرکوں سے استعانت
حرام کتابی سے ہوسکتی ہے اس پر حدیث سوم کہ فائدہ ثانیہ میں آتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ابن اُبی منافق کے چھ سوحلیف یہودیوں کو واپس کردیا اور انھیں مشرکین فرمایا اعتراضا واردکی کہ دیکھو حضو نے یہود کو بھی مشرکین سے گنا اور ان سے استعانت کو بھی مشرکین سے استعانت قرار دیا اس کے جواب میں فرمایا اس کی وجہ ان کا اس مشرك منافق سے حلف ہے کہ حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں تو مشرك کے حلیف ہوکر وہ کتابی نہ رہے مرتدہوگئے اور اسی طرح مشرک،عبارت یہ ہے:
جوابنا ان وجہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لھؤلاء الیہود علی مابینہم وبین ابن ابی المنافق من الحلف والمحالفۃ ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین فکانوا بذٰلك خارجین من اھل الکتاب مرتدین عما کانوا علیہ وصاروامشرکین کمشرکی العرب[3] (ملخصا)
امام ابوالولید باجی نے مختصر پھر علامہ یوسف دمشقی نے معتصر میں اسے مقرررکھا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع