30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرام ومردود وخلاف شرع ہوا،اب کیوں نہ یاد کریں لیڈارن اپنا ہی قول کہ"خدا کے یہاں معاہدہ کاحیلہ بھی کارگر ہوتاہے"یا دیکھئے کیا جواب ملتاہے کوئی اگر معاہدہ کا دعوٰی بھی کرے تو خلاف شرع معاہدہ کیونکر مسلم ہوگا کیونکہ صلح حدیبیہ منسوخ ہوچکی ہے اور الاما احل بہ حراما اوحرم بہ حلالا [1](مگر وہ معاہدہ جوحرام کو حلال اور حلال کوحرام بنائے۔ت)کا استثناء حکم مستقل ہے"
لیڈران پر ساتوں رد:
ہفتم لیڈران کی بڑی کوشش اس میں ہے کہ مشرکین ہند کے شدید مظالم چھپائیں اور ان کو جیسے بنے
" لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "میں داخل ٹھہرائیں تاکہ انھیں زیرحکم" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ "لائیں یہ صاف کہہ رہاہے کہ معاہدہ کا عذر محض جھوٹا ہے معاہدہ تو حسب ضرورت شرعیہ مقاتلین سے خاص وقت قتال بھی جائز ہے پھر اگر معاہدہ ہوتا تو اس کھینچ تان کی کیا ضرورت پڑتی معلوم ہوا کہ جھوٹ کہتے ہیں اور قصدًا بکتے ہیں اور دل میں خوب سمجھ رہے ہیں کہ نرا جھوٹ بکتے ہیں" وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ﴿۹۵﴾ "[2](اور اﷲ خوب جانتاہے ظالموں کو۔ت)
مشرکوں سے معاہدہ لیڈران کے اصل اغراض
(۹)لیڈران حاشا تمھارا معاہدہ ہنود سے نہ التوائے قتال کے لئے ہوا نہ اس کا کچھ ذکر تھا نہ تم ان پر قاہر تھے نہ انھیں تم سے اپنے قتل کا خوف تھا بلکہ دونوں تیسرے کے ہاتھ میں مقہور ہو،نہ ہر گز اس مدت معاہدہ میں تم قتل ہنود کا سامان کررہے ہو نہ ہر گز تمھاری نیت نہ ہرگز تم ایسا کرسکتے ہو غرض معاہدہ شرعیہ سے ایساہی دور ہو جیسے مشرکین توحید سے یاتم شرع مجید سے بلکہ ناپاك معاہدہ چارباتوں کے لئے ہوا:
مشرکوں کا برادر بننا حرام ہے:
یکم:مشرکین سے عقد مواخات بھائی چارہ کہ برادارن وطن ہندوبھائی،اﷲ عزوجل فرمائے" اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ "[3]مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔تم کہو"نحن والمشرکون اخوۃ"ہم اور مشرکین آپس میں بھائی ہیں،جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع