30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یباشر القتال لایخافونہ فکیف یصح امانہ [1]۔ |
نہ کرے کافر اس نہ ڈریں گے تو اس کی امان کیسے صحیح ہو۔ |
ایمان سے کہنا کیا تم ہنود پر قاہر تھے کیا ان کے قتل پر قادر تھے کیا ان کو تم سے خوف قتل تھا جسے تمھاری امان نے زائل کیا،اور جب یہ کچھ نہ تھا اور بیشك نہ تھا تمھارا معاہدہ اگر بفرض باطل،معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی قطعا باطل ومردودتھا،اور مردود کو پورا کرنا لازمی بتانا اس سے بڑھ کر مردود۔
لیڈران پر چھٹا رد:
ششم کفار سے معاہدہ شرعیہ میں شرط اعظم یہ ہے کہ جتنی مدت تك ہواس میں تہیہ قتال رکھیں اور اس کی آمادگی ودرستی سامان سے غفلت نہ کریں کہ التواء ومعاہدہ سے اصل مقصودیہی ہے ورنہ تارك فرض اہم ہوں گے اور مستحق نارجہنم،
والعیاذ باﷲ تعالٰی، بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
|
المعاھدۃ شرطھا الضرورۃ وھی ضرورۃ استعداد القتال لان الموادعۃ ترك القتال المفروض فلایجوز الا فی حال یقع وسیلۃ الی القتال [2]۔ |
معاہدہ جائز ہونے کی شرط ضرورت ہے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ اس مدت میں سامان قتال درست کریں اس لئے کہ جہاد فرض ہے اور معاہدہ اس فرض کا ترك ہے تو اس حال میں حلال ہوسکتاہے کہ یہ جہاد کے لئے وسیلہ پڑے۔ |
ایمان سے کہناکیا تم ہندوؤں سے آمادگی قتال میں ہو اور اسی لئے ایك مدت تك ان سے معاہدہ کیا ہے کہ اس فرصت میں ان کے قتل کا سامان مہیا کرلو کیوں مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہو،بلکہ عالم الغیب و القلب کے ساتھ فریب کی راہ لیتے ہو۔
|
" وَمَا یَخْدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَمَا یَشْعُرُوۡنَؕ﴿۹﴾ "[3] |
اور فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعورنہیں۔ |
طرح طرح ثابت ہوا کہ تمھارا یہ معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں بھی ہوتا جب بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع