30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیڈران پر چوتھا رد:
چہارم کافروں مشرکوں سے معاہدہ شرعیہ صرف اس وقت رواہے جب معاذاﷲ مسلمانوں کو اس کی احتیاج وضرورت ہو،
امام ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں:
|
الموادعۃ رکنہا فھو لفظ الموادعۃ او المسالمۃ او المصالحۃ والمعاھدۃ او ما یؤدی معنی ھذہ العبارات وشرطھا الضرورۃ فلاتجوز عند عدم الضرورۃ [1](ملخصا) |
معاہدہ صلح کا رکن یہ الفاظ ہیں موادعت،مسالمت، مصالحت، معاہدہ اور جو لفظ ان معنی کو ادا کرے اور معاہدہ کی شرط ضرورت ہے بے ضرورت حرام ہے۔ |
لیکن لیڈران اپنا بھاری جرم خود قبول نہیں کرتے ہیں کہ ہم کو احتیاج نے اتحاد برداران ہند کی جانب مائل نہیں کیا تمھارا معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی بے ضرورت ان کی طرف مائل ہونا حرام تھا ہر حال اس نے تمھیں واحد قہار کا نافرمان اور صریح بدخواہ مسلمانان و دین مسلمانان کردیا۔
لیڈران پر پانچواں رد:
پنجم کفار سے معاہدہ شرعیہ ایك قسم امان ہے اور شرط امان یہ ہے کہ کفار کو امان دہندہ سے خوف قتل و قتال ہو اور یہ ان پر قاہر ہو اگر چہ اپنی جماعت کے لحاظ سے اگرچہ نسبۃً پلہ انھیں کا بھاری ہو جنگ دوسردار وحرب میں چرب کو بھی خوف ہوتاہے جس سے انھیں اپنے قتل کا خوف نہ ہو اس کا امان دینا باطل اورمعاہدہ کرنامردود،بدائع ملك العلماء میں ہے:
|
اماحکم الموادعۃ فما ھوحکم الامان المعروف لانہا عقد امان ایضا [2]۔ |
معاہدہ کا حکم وہی ہے جو امان کا مشہور حکم ہے اس لئے کہ معاہدہ بھی ایك عقد امان ہے۔ |
ہدایہ میں ہے:
|
انہ من اھل القتال فیخافونہ اذھومن اھل المنعۃ فیتحقق الامان منہ لملاقاتہ محلہ [3]۔ |
اس لئے کہ وہ اماں دہندہ اہل قتال سے ہے تو کا فر اس سے ڈریں گے اس لئے کہ وہ حمایتی گروہ رکھتاہے تو اس کا اماں دینا ٹھیك ہوگا اپنے محل پر واقع ہوا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع