30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ تقریر ایرادہے اور اسے قرطبی خطیب شربینی پھر جمل نے مقرر رکھا۔
دوم عدل سے صرف وفائے عہد مراد ہے اسے کبیر میں مقاتل سے نقل کیا اوریہی تنویر میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
|
(ان تقسطوا علیہم)تعدلوا بینہم بوفاء العہد(ان اﷲ یحب المقسطین)العادلین بوفاء العہد 1۔ |
ان کے ساتھ اقساط کی اجازت فرماتاہے یعنی جو معاہدہ ان کے ساتھ ہوا اسے پورا کرو یہ عدل ہے بیشك اﷲ تعالٰی اقساط والوں کودوست رکھتاہے جو وفائے عہد سے عدل کرتے ہیں۔ |
اگرکہئے معاہد سے وفائے عہد بھی واجب ہے نہ صرف رخصت اقول وفا واجب ہے اتمام مدت واجب نہیں،مصلحت ہو تو نبذ جائز،قال تعالٰی:" فَانۡۢبِذْ اِلَیۡہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ "2 (ان کی طرف یکساں حالت پر نبذ کردو عــــہ ۔اب ایراد بھی نہ رہا اور بروقسط دو جدا چیزیں ہوگئیں،اور"" اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۸﴾ ""یہاں بھی بلا تکلف ہے۔
عــــہ:جن کفار سے ایك مدت تك معاہدہ ہو او رمصلحت اسلام اس کا ترك چاہے،فرض ہے کہ ان کو اطلاع کردی جائے ہوشیار ہوجاؤ اب ہم تم سے معاہدہ رکھنا نہیں چاہتے اس کا نام نبذ ہئے اس میں فرض ہے کہ اگر اس وقت وہ امن کی جگہ نہ ہوں تو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ اپنی امان کی جگہ پہنچ جائیں،اور اگر (باقی اگلے صفحہ پر)
……………………………….
[1] تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس زیر آیہ لاینہٰکم اﷲ عن الذین الخ مصطفی البابی مصر ص۳۵۱
2 القرآن الکریم ۸/ ۵۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع