30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَمَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾"[1] |
لینے کو جائے وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیاہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔ |
حربی غیر معاہد سے موالات کی حالی صورت بھی حرام ہے:
اور دوم ان سے جائز نہیں کہ حقیقت معادات سے خالی اور صورت موالات حالی یہ صرف معاہدین کے لئے ہے"تنزیلا للناس منازلہم"ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھنے کے لئے۔اور غیر معاہد کے لئے یہ بھی موالات ممنوعہ ہی ہے اوپر گزرا کہ مولٰی عزوجل نے ان سے صوریہ کو بھی مثل حقیقیہ منع فرمایا اور اس کا نام بھی مودت ہی رکھا کہ"تلقون الیھم بالمودۃ تسرون الیہم بالمودۃ [2](تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے تم انھیں محبت کا خفیہ پیغام پہنچاتے ہو۔ت)یہ ہے حقیقت انیق متکفل توفیق وتطبیق والحمد ﷲ علی حسن التوفیق۔
آیات ممتحنہ میں بر ومعاملات سے کیا مراد :
اس تحقیق سے روشن ہوا کہ کریمہ" لَا یَنْہٰىکُمُ "میں بر سے صرف اوسط مراد ہے کہ اعلٰی معاہد سے بھی حرام اور ادنٰی غیر معاہد سے بھی جائز،اور آیت فرق کے لئے اتری ہے نیز ظاہرہوا کہ کریمہ" اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ "میں"تولوھم"سے یہی بروصلہ مراد ہے تاکہ مقابلہ فرق ظاہر ہولاجرم تفسیر معالم وتفسیر کبیر میں ہے:
|
ثم ذکر الذین ینھاھم عن صلتہم فقال " اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ "الآیۃ [3]۔ |
پھر اﷲ تعالی نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جن سے نیك سلوك کی ممانعت ہے کہ فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔ |
تنویر المقباس میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے:
|
(اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ)عن صلۃ الذین(ان تولوھم) ان تصلوھم [4](ملخصا) |
اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے یعنی ان کے ساتھ نیك سلوك کرنے سے کہ ان سے موالات یعنی نیك سلوك کرو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع