30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرورت ہو تو حتی الامکان پہلودار بات کہے صریح کی اجازت نہیں اور بے اس کے نجات نہ ملے اورقلب ایمان پر مطئمن ہو تو اس کی بھی رخصت اور اب بھی ترك عزیمت،ابناء جریر و منذر وابی حاتم نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی:
|
نھی اﷲ المومنین ان یلاطفوا الکفار و یتخذوھم ولیجۃ من دون المؤمنین الاان یکون الکفار علیہم ظاھرین اولیاء فیظھرون لہم اللطف ویخالفونہم فی الدین وذٰلك قولہ تعالٰی الا ان تتقوا منہم تقٰۃ [1]۔ |
اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ کافروں سے نرمی کریں اور مسلمانوں کے سوا ان میں سے کسی کو راز دار بنائیں مگریہ کہ کافران پر غالب ووالیان ملك ہوں تو اس وقت ان سے نرمی کا اظہار کریں اور دین میں مخالفت رکھیں اوریہ ہے مولٰی تعالٰی کا ارشاد مگریہ کہ تم کو ان سے واقعی پوراخوف ہو۔ |
مدارك میں ہے۔
|
ای الا ان یکون للکافر علیك سلطان فتخافہ علی نفسك ومالك فحینئذ یجوز لك اظہار الموالاۃ و ابطان المعاداۃ [2]۔ |
یعنی مگر یہ کہ کا فر کی تجھ پر سلطنت ہو تو تجھے ا س سے اپنے جان ومال کا خوف ہو ا س وقت تجھے جائز ہے کہ اس سے دوستی ظاہر کرے اور دشمنی چھپائے۔ |
کبیر میں ہے:
|
وذٰلك بان لایظھر العداوۃ باللسان،بل یجوز ایضا ان یظھر الکلام الموھم للمحبۃ والموالاۃ،ولکن بشرط ان یضمر خلافہ وان یعرض فی کل مایقول [3]۔ |
یہ یوں ہے کہ زبان سے دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائزہے کہ ایسا کلام کہے جو محبت ودوستی کا وہم دلائے مگر شرط یہ ہے کہ دل میں اس کے خلاف ہو اور جو کچھ کہے پہلو دار بات کہے۔ |
صوریہ کی اعلٰی قسم ۶مداہنت ہے اس کی رخصت صرف بحالت مجبوری واکراہ ہی ہے اورادنٰی قسم ۷مدارات یہ مصلحتابھی جائز، قال اﷲ تعالٰی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع