30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس تصورسے کہ یہ اﷲ ورسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے،بقدرقدرت اس کا دبانا یہاں تك کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے کہ شے مستمر میں بقاء کے لئے حکم ابتداہے کہ اعراض ہرآۤن متجدد ہیں آنا بے اختیار تھا اور جانا یعنی ازالہ قدرت میں ہے تو رکھنا اختیار موالات ہوا اور یہ حرام قطعی ہے ولہذا جس غیر اختیاری کے مبادی اس نے باختیار پیدا کئے اس میں معذورنہ ہوگا جیسے شراب کہ اس سے زوال عقل اس کا اختیاری نہیں مگر جبکہ اختیار سے پی تو زوال عقل اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہوا،قال تعالٰی:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَاتَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمْ وَ اِخْوٰنَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الۡاِیۡمٰنِ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾"[1]۔ |
اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسندکریں اور تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہی پکا ظالم ہوگا۔ |
تفسیر کبیرونیشاپوری وخازن وجمل وغیرہما میں ہے:
|
انہ تعالٰی امرالمومنین بالتبری عن المشرکین و بالغ فی ایجابہ،قالوا کیف تمکن ھذہ المقاطعۃ التامۃ بین الرجل وبین ابیہ وامہ واخیہ،فذکر اﷲ تعالٰی ان الانقطاع من الاٰباء والاولاد والاخوان واجب بسبب الکفر [2]۔ |
جب اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کومشرکوں سے بیزاری کاحکم دیا اور بتاکید شدید واجب فرمایا تو بعض مسلمانوں نے کہا آدمی کا اس کے باپ اور ماں اور بھائی سے یہ پورا انقطاع کیونکر ممکن ہے،اس پر رب عزوجل نے فرمایا کہ باپ اور اولاد اور بھائیوں سے ان کے کفر کے سبب پورا انقطاع ہی لازم ہے۔ |
موالات صوریہ کے احکام:
دوم صوریہ:کہ دل اس کی طرف اصلا مائل نہ ہو مگر برتاؤ وہ کرے جو بظاہر محبت ومیلان کا پتا دیتاہو،یہ بحالت ضرورت وبمجبوری صرف بقدر ضرورت ومجبوری مطلقًا جائز ہے۔قال تعالٰی:
|
" اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃًؕ"[3]۔ |
مگر یہ کہ تمھیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔ |
بقدر ضرورت یہ کہ مثلا صرف عدم اظہار عداوت میں کام نکلتا ہو تواسی قدرپر اکتفا کرے اور اظہا ر محبت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع