30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس تحقیق سے بہت عبارات میں توفیق ہوگئی جن میں حربی کے لئے مطلقًا ممانعت ہے جیسے ارشاد جامع صغیر وکتب کثیر ان میں حربی غیر معاہد مرادہے،لاجرم کافی پھر درر پھر نتائج الافکار نے کلام جامع صغیر یوں نقل کیا:
|
الوصیۃ للحربی وھو فی دارالحرب باطلۃ لانھا بروصلۃ وقدنھینا عن برمن یقاتلنا لقولہ تعالٰی انما ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین [1]۔ |
حربی کہ دارالحرب میں ہو اس کے لئے وصیت باطل ہے اس لئے کہ وہ احسان ونیك سلوك ہے اور حربی کے ساتھ نیك سلوك سے ہمیں منع فرمایاگیا کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑے۔ |
جامع صغیرشریف کے متعدد نسخے حاضر،اس کی عبارت صرف اس قدر ہے:
|
الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ [2]۔ |
حربیوں کے لئے وصیت باطل ہے۔ |
اوریہی اس سے بدایہ متن ہدایہ میں منقول،نہ اس میں تعلیل ہے،نہ لفظ"ھو فی دارھم"ضرور،یہ بعض شروح جامع کی عبارت ہے جسے کافی نے حسب عادت علماء جامع کی طرف نسبت فرمایا تو شارح نے اطلاق جامع کو غیر مستامن پر حمل کیا اور جن میں مطلق جواز ہے جیسے عبارت شرح سیر کبیر جس کو محیط نے اسی عــــہ عادت کی بناء پر سیر کبیر کی طرف نسبت کیاان میں مستامن ومعاہد مقصود جس طرح خود محیط نے تصریح کی کہ:اراد بالمحارب
|
عــــہ:فلا علیك مماوقع فی زکٰوۃ [3]ش من عزوہ لمحمد فی السیر الکبیر فقد ابان الصواب فی الوصایا ناقلا عن العلامۃ جوی زادہ ان مراد ھم مایدل علی الجواز ماذکر فی شرح السیر الکبیر [4]للامام السرخسی منہ غفرلہ۔ |
شامی کی کتاب الزکوٰۃ میں سیر کبیر کے حوالہ سے جو امام محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی کی طرف منسوب ہے وہ تجھے اشتباہ نہ دے اس لئے کہ شامی کے وصایا میں علامہ جوی زادہ سے درست وصحیح عبارت منقول ہے کہ جواز پر دلالت کرنے سے ان کی وہ دلیل مراد ہے جو امام سرخسی کی شرح سیر کبیر میں مذکور ہے۔منہ غفرلہ(ت) |
[1] الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الوصایا مطبعہ احمد کامل الکائنۃ دار سعادت مصر ۲/ ۴۲۹،نتائج الافکار تکملہ فی القدیر باب صفۃ الوصیۃ مایجوز من ذٰلك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵
[2] الجامع الصغیر باب الوصیۃ بثلث المال مطبع یوسفی لکھنو ص۱۷۰
[3] ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۲/ ۷۳
[4] ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۵/ ۴۶۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع