30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی الذمی لانا ما نھینا عن براھل الذمۃ لقولہ تعالٰی" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "وقیل ان فی التبرع علیہ فی حال الحیاۃ بالصدقۃ و الھبۃ روایتین عن اصحابنا فالوصیۃ لہ علی تلك الروایتین ایضًا (ملخصا)[1] |
کو جائز ہے اس لئے کہ ذمیوں کے ساتھ احسان کی ہمیں ممانعت نہ فرمائی گئی،اﷲ تعالٰی فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں،اور کہا گیا کہ زندگی میں حربی مستامن کو کچھ ہبہ یا خیرات دینے میں ہمارے ائمہ سے دو روایتیں ہیں تو اس کے لئے وصیت بھی انہیں دو روایتوں پر رہے گی۔(ملخصا) |
اس پر تمام کلام ونقض وابرام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ جدالممتار میں مذکور جس سے اطالت کی یہاں حاجت نہیں سیرکبیر سے حربی کے لئے اشعار جوا زنقل کیا گیا مگر اس میں حربی فی دارہ کے لئے تصریح ہے محیط پھر قاضی زادہ نے اس کی عبارت یہ نقل کی:
|
لواوصی مسلم لحربی والحربی فی دارالحرب لاتجوز فان خرج الحربی الموصی لہ الی دارالاسلام بامان واراداخذ وصیتہ لم یکن لہ من ذٰلك شیئ وان اجازت الورثۃ لان الوصیۃ وقعت بصفۃ البطلان فلا تعمل اجازۃ الورثۃ فیھا [2]۔ |
اگر مسلمان نے کسی حربی کے لئے وصیت کی اور حربی دارالحرب میں تھا جائز نہیں پھر اگر جس حربی کے لئے وصیت تھی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اوراپنی وصیت لینا چاہے اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا اگرچہ وارث اجازت بھی دے دیں کہ وصیت سرے سے باطل واقع ہوئی تو وارثوں کی اجازت اس میں کیا کام دے گی، |
اقول:ہاں فی داراہ کی قید اور سیاق کلام سے مستامن کے لئے جواز نکلتا ہے"کما لا یخفی وبہ اندفع ایراد المحیط ثم نتائج الافکار علیہم"(جیسا کہ مخفی نہیں ا س سے محیط پھر نتائج الافکار کا ان پر اعتراض ختم ہوگیا۔ت)تویہ اسی توفیق کی طرف مشیر جو علامہ مولی خسرو نے درر میں کی اور تنویر نے اسے متن میں لیا کہ مستامن کے لئے صحیح اور غیر مستامن کے لئے ناجائز،درمیں اسے بحث درر ٹھہرایا حالانکہ منصوص ہے،وہی ہدایہ جس سے گزرا کہ حربی کے لئے وصیت باطل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع