30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور شریعت پر افتراء ٹھہراکہ مقاطعہ کرو تو انھیں معدود سے کرو جو میدان میں ترکوں سے لڑے،غرض ؎
نے فروعت محکم آمدنے اصول
شرم بادت از خدا واز رسول
(نہ تیرے فروع قائم رہیں نہ اصول تو خدا ورسول سے شرم کھا۔ت)
قرآن عظیم سے مزعومات لیڈرا ن کا رد
تنبیہ جلیل:اقول: کریمہ" وَقٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقٰتِلُوۡنَکُمْ کَآفَّۃً ؕ"[1](اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں۔ت)کہ ابھی ہم نے تلاوت کی قطعا اپنی ہر وجہ ہر پہلو پر لیڈران عنود پس روان ہنود پر رد شدید ہے،
ان کا مزعوم دو۲ فقرے ہیں:
اول یہ کہ ہنود میں مقاتل فی الدین صرف وہی ہے جنھوں نے وہ مظالم کئے تو مقاتل نہیں مگر مقاتل بالفعل جس نے ہتھیار اٹھایا اور قتل کو آیا تاکہ عامہ ہنود کو" قٰتَلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "سے بچالیں
دوم یہ کہ جو مقاتل بالفعل نہیں اس سے اظہار عداوت فرض نہیں تاکہ بزور زبان ان سے وداد واتحاد کی راہ نکالیں۔
اب آیہ کریمہ میں چار۴ احتمال ہیں:
اول:دونوں"کافۃ"مسلمانوں سے حال ہوں یعنی سب مسلمانوں مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔
دوم:دونوں"کافۃ"مشرکین سے حال ہوں یعنی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔
سوم:پہلا"کافۃ"مشرکین سے حال ہو اور دوسرا منومنین سے یعنی تم بھی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔یہ قول عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے منقول ہے۔
چہارم:اس کا عکس یعنی سب مسلمان مشرکوں سے لڑیں جس طرح وہ سب مشرك مسلمانوں سے لڑتے ہیں،کبیر میں اسی کو ترجیح دی اورلباب میں اسی پر اقتصار کیا،اور امام نسفی نے چاروں احتمالوں کا اشعار کیا،مفاتیح الغیب میں ہے:
|
فی قولہ تعالٰی کافۃ قولان،الاول |
ارشاد الہٰی کافۃ میں دو قول ہیں،اول مراد یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع