30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر ادنی خادم فقہ جانتاہے کہ حربی مقابل ذمی ہے نہ کہ خاص محارب بالفعل۔ہدایہ وغیرہاکی عبارات ابھی گزریں توآیت قطعا تمام حربیوں کو شامل خواہ بالفعل مصدر قتال ہوئے ہوں یا نہیں البتہ معاہدین کا استثناء ضروریات دین سے ہے جس پر نصوص قاطعہ ناطق،اور وہ اذہان مسلمین میں ایسا مرتکز کہ اصلا محتاج ذکر نہیں،یونہی حکم جہادو قتال کے اعتبار سے اصحاب قول سوم کو بھی یہاں گنجائش اجماع واتفاق ہے کہ معاہدین وذراری محل جہاد ہی نہیں تو کلمہ جاھدوا قاتلواسے ان کی طرف ذہن نہیں جائے گا۔فتح القدیر میں ہے:
|
وما الظن الا ان حرمۃ قتل النساء والصبیان اجماع [1]۔ |
گمان اس کے سوا کسی کی طرف نہیں جاتا کہ عورتوں اور بچوں کا قتل حرام ہونے پر اجماع ہے۔ |
غرض معاہدو ذمی ونساء وصبیان کو نص قتال ابتداء ہی شامل نہ ہواکہ تخصیص کی حاجت ہو،بحرالرائق میں ہے:
|
نفس النص ابتداء لم یتعلق بہ لانہ مقید بمن بحیث یحارب کقولہ تعالٰی" وَقٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً "الاٰیۃ فلم تدخل المرأۃ [2]۔ |
سرے سے خود نص ا سے متعلق نہ ہوا کہ وہ خاص ایسے کے بارے میں ہے جو لڑنے کے قابل ہو جیسے ارشاد الہٰی:سب مشرکوں سے لڑو تو یہ عورت کو شامل نہیں ہے۔ |
باقی تحقیق عنقریب آتی ہے ان شاء اﷲ تعالٰی،بالجملہ آیہ کریمہ میں دو قول ہیں:
ایك قول اکثر اہل تاویل کہ سب کفار غیرمحاربین بالفعل مراد نہیں بلکہ خاص اہل عہد وپیمان یا اطفال و زنان یاغیر مہاجر مسلمان،اس تقدیر پر آیہ کریمہ مشرکین ہند کو جن سے اتحاد وداد منایا جارہا ہے کسی طرح شامل ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اہل ذمہ ہیں نہ عورتیں،بچے نہ مسلمان۔
دوسراقول بعض کہ سب مشرکین غیر محاربین بالفعل مراد تھے۔
لیڈروں کو پہلا جواب:
اس طور پر وہ اولا یقینا منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ضلالت وگمراہی،کیا کوئی روا رکھے کہ شراب پئے اور کافروں کو بیٹیاں دے او راپنی سگی بہن سے نکاح کرے ع
کہ بعہد قدیم نابودست
(کہ یہ بے حیائی تو زمانہ(قدیم)جہالت میں روا نہیں رکھی گئی۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع