30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوۡا فِیۡکُمْ غِلْظَۃً ؕ "[1] |
اور تم پر فرض ہے کہ وہ تم میں درشتی پائیں |
یہ حکم بھی جمیع کفار کو عام ہے حکمت یہی ہے کہ پہلے پاس والوں کو زیر کیا جائے جب وہاں اسلام کا تسلط ہوجائے تو اب جو اس سے نزدیك ہیں وہ پاس والے ہوئے وہ زیر ہوجائیں تو اب جو ان سے قریب ہیں یونہی یہ سلسلہ شرقا غربا منتہائے زمین تك پہنچے اور بحمداﷲ ایساہی ہوا اور بعونہٖ تعالٰی ایساہی بروجہ اتم وکمال زمانہ امام موعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہونے والا ہے
سب کافروں سے قتال وغلظت کاحکم ہے اگر چہ محارب بالفعل نہ ہوں محارب بالفعل کی تخصیص منسوخ ہوگئی:
|
" حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلہِ ۚ "[2]۔ |
یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ساراد ین اﷲ ہی کے لئے ہوجائے۔ |
یہاں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ کفارپر درشتی کرو۔مومنین کوحکم ہوا کافروں پر سختی کرو۔اس میں نہ کوئی تقسیم ہے نہ تردید،نہ تخصیص نہ تقلید،اور ہر عاقل جانتاہے کہ نیك سلوك اور سختی ودرشتی باہم متنافی ہیں،پہلے نیك سلوك کی اجازت تھی اب درشتی وسختی کا حکم ہوا تو وہ اجازت ضرور منسوخ ہوگئی،اجماع امت ہے کہ جہاد کفار محاربین بالفعل سے مخصوص نہیں مدافعانہ وجارحانہ قطعا دونوں طرح کا حکم ہے اجازت کا مدافعانہ میں حصر پہلے تھا پھر قطعا منسوخ ہوگیا،مبسوط شمس الائمہ سرخسی وکفایہ وعنایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
|
واللفظ للبابرتی قولہ تعالٰی فان قاتلوکم فاقتلوھم منسوخ وبیانہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان فی الابتداء مأمور ابالصفح والاعراض عن المشرکین بقولہ" فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیۡلَ ﴿۸۵﴾" ،" وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾"الاٰیۃ ثم امر بالدعاء الی الدین بالموعظۃ والمجادلۃ |
یہ ارشاد کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو ان کو قتل کرو منسوخ ہے، بیان اس کا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم تھا کہ مشرکوں سے درگزر او رروگردانی فرمائیں ارشاد تھا اچھی طرح درگزر کرو اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ پھر حضور کوحکم ہوا کہ سمجھا نے اور خوبی کے ساتھ دلیل قائم فرمانے سے دین کی طرف بلاؤ کہ ارشاد تھا اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کے ساتھ بلاؤ۔پھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع