30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سریۃ الی دارالحرب کل سنۃ مرۃ اومرتین وعلی الرعیۃ الا اذا اخذ الخراج فان لم یبعث کان کل الاثم علیہ وھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والا فلایباح قتالہم [1]۔ |
ایك یادو بار دارالحرب پر لشکر بھیجے اورر عیت پر اس کی مدد فرض ہے اگر ان سے خراج نہ لیا ہو تو سلطان اگر لشکر نہ بھیجے تو ساراگناہ اسی کے سر ہے،یہ سب اس صورت میں ہے کہ اسے غالب گمان ہو کہ طاقت میں کافروں سے کم نہ رہے گا ورنہ اسے ان سے لڑائی کی پہل ناجائز ہے۔ |
خصوصا ہندوستان میں جہاں اگر دس مسلمان ایك مشرك کو قتل کریں تو معاذاﷲ دسوں کو پھانسی ہو ایسی جگہ مسلمانوں پر جہاد فرض بتانے ولا شریعت پر مفتری اور مسلمانوں کا بدخواہ ہے،ہمارا مقصود اس قدر تھا کہ کریمہ ممتحنہ اگر جملہ مشرکین غیر محاربین کو عام ہے تو ضرور منسوخ ہے وہ بحمدہ تعالٰی بروجہ احسن ثابت ہوگیا۔
خود قرآن عظیم سے اس آیت کی منسوخی کا ثبوت اگر ہر غیر محارب بالفعل کو عام مانی جائے۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ت)اگروہ اکابر تابعین اس کے نسخ کی تصریح اور یہ امام جلیل اس کی ترجیح وتصحیح نہ فرماتے تو قرآن عظیم خود شاہد تھا کہ آیہ" لَا یَنْہٰىکُمُ "اگر جملہ مشرکین غیر محاربین بالفعل کو عام ہے تو قطعا منسوخ ہے،ممتحنہ کانزول سورہ براءت سے یقینا پہلے ہے تصریح ائمہ نہ ہوتی تو خود اس کی آیہ کریمہ بتارہی ہیں کہ نزول تك مکہ معظمہ قبض کفار میں تھا اور سورہ توبہ شریف کے ارشادات جگمگارہے ہیں کہ اس کا نزول بعد فتح بلدا لحرام وتسلط تام دین اسلام ہے وﷲ الحمد،سورہ براءت میں ارشاد فرمایا:
|
" یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ ؕ وَمَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾"[2]۔ |
اے نبی! کافروں اور منافقوں پر جہاد فرمائیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔ |
پھر اسی سورۃ میں ارشاد فرمایا:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ |
اے ایمان والو! اپنے پا س کے کافروں سے لڑو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع