30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تبیین الحقائق اما م زیلعی پھرفتح اﷲ المعین سید ازہری میں ہے:
|
لایجوز دفع الزکوٰۃ الی ذمی وقال زفر یجوز لقولہ تعالی" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "صرف الصدقات کلھا الیہم بخلاف الحربی المستامن حیث لایجوز دفع الصدقۃ الیہ لقولہ تعالٰی " اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "واجمعوا علی ان فقراء اھل الحرب خرجوا من عموم الفقراء [1] (ملخصا) |
ذمی کو زکوٰۃ دینا تو جائز نہیں۔اور امام زفر نے فرمایا تمام قسم کے صدقات دے سکتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے اﷲ تمہیں ان سے نہیں روکتا جودین میں تم سے نہ لڑیں بخلاف حربی اگرچہ مستامن ہو کہ اسے کسی قسم کا صدقہ دینا حلال نہیں کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے روکتا ہے جو تم سے دین میں لڑیں،اور ائمہ امت کا اجماع ہے کہ قرآن عظیم میں جو صدقات فقراء کے لئے بتائے حربی فقیر ان سے خارج ہیں۔ |
جوہرہ نیرہ میں ہے:
|
انما جازت الوصیۃ للذمی ولم تجز للحربی لقولہ تعالٰی" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیٰرِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمْ "،ثم قال " اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "[2]۔الایۃ |
خاص ذمی کےلئے وصیت جائز اور حربی کے لئے حرام اس وجہ سے کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے اﷲ تعالٰی تمھیں ان سے نیك سلوك کو منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں، اور تمھیں گھروں سے نہ نکالا پھر فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔ |
کافی میں ہے:
|
یجوز ان یدفع غیر الزکوٰۃ الی ذمی وقال ابویوسف و الشامی لایجوز کالزکوٰۃ ولنا قولہ تعالٰی لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ |
زکوٰۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں اور امام ابو یوسف وامام شافعی نے فرمایا اور صدقات بھی ذمی کونہیں دے سکتا جیسے زکوٰۃ ہماری دلیل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع