30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الذمی والثانیۃ فی الحربی کما ھوا لظاھر وعلیہ الاکثرون کان دالاعلی جواز الاحسان الی الذمی دون الحربی،ولھذ اتمسك صاحب الھدایۃ فی باب الوصیۃ ان الوصیۃ للذمی جائزۃ دون الحربی لانہ نوع احسان و لھذا المعنی قال فی باب الزکوٰۃ ان الصدقۃ النافلۃ یجوز اعطاء ھاللذمی دون الحربی [1]۔ |
حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیك سلوك کی رخصت ہے اگر دربارہ ذمی ہو اور دوسری جس میں مقاتلین سے ممانعت ہے دربارہ حربی جیساکہ یہی ظاہر ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ ہے تو آیتیں دلیل ہوں گی کہ ذمی کے ساتھ نیك سلوك جائز ہے۔اورحربی کے ساتھ حرام،ولہذا صاحب ہدایہ نے باب الوصیۃ میں انھیں آیتوں کی سند سے فرمایا کہ وہ ایك طرح کا احسان ہے اور اسی کے سبب باب الزکوٰۃ میں فرمایا کہ نفلی صدقہ ذمی کودینا حلال اورحربی کو دینا حرام ۱۲ |
نہایہ امام سغناقی وغایۃ البیان امام اتقانی وبحرالرائق وغنیہ علامہ شرنبلالی میں ہے:
|
واللفظ للبحر صح دفع غیر الزکوٰۃ الی الذمی لقولہ تعالٰی" لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ "الاٰیۃ وقید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت اوواجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالٰی اِنَّمَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ واطلقہ فشمل المستامن وقد صرح بہ فی النہایۃ [2]۔ |
زکوٰۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں،اﷲ عزوجل فرماتاہے:تمھیں اﷲ ان سے منع نہیں فرماتا جو دین میں تم سے نہ لڑیں،ذمی کی قید اس لئے لگائی کہ حربی کےلئے جملہ صدقات حرام ہیں،فرض ہوں یا واجب یا نفل۔جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔اس لئے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں،حربی کو مطلق رکھا تومستامن کو بھی شامل ہوا جو سلطان اسلام سے پناہ لے کر دارالاسلام میں آیا اسے بھی کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔اور نہایہ میں اس کی صاف تصریح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع