30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کردیاہے وغیرہ وغیرہ،غرض کہ ایسے وقت جبکہ اعداء اﷲ اسلام کی عزت اور شوکت کی بیخ کنی میں کوشش کاکوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا،عراق،فلسطین اور شام جن کو صحابہ اور تابعین رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے خون کی ندیاں بہا کر فتح کیا تھا،پھر کفار کی حریفانہ حوصلہ مندیوں کی جولانگاہ بن گئے ہیں خلیفۃ المسلمین دشمنوں کے نرغے میں پھنس کر بے دست وپا ہوچکے ہیں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہنے والے اپنے گھروں (تھریس سمرنا وغیرہ)اور زرخیز علاقوں سے زبردستی نکالے جارہے ہیں، اورمسجدوں پر زبردستی قبضہ کرلیا جاتاہے اور مسلمانوں کے علماء قرآنی احکام ڈڑتے ڈرتے بتاتے ہیں،جہاد کا تو نام ہی منہ پر آنا بس قیامت ہے،کیا ایسے وقت میں اسلامی حمیت وغیرت یہ چاہتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ نکل آئے جس سے انگریز افسر خوش ہوجائیں اورمسلمان تباہ ہوجائیں،مسٹر حاکم علی نے ایك پالیسی سے انگریز پرنسپل اور دوسرے انگریز افسروں اور غدار مسلمانوں کو خوش کرنے کے واسطے حضور سے ایك عجیب طرز میں فتوٰی پوچھا اور حضور نے اس کے مضمون کے مطابق صحیح صحیح فیصلہ جواب میں بھیج دیا،یہ بالکل درست ہے کہ موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے لیکن دین کا نقصان کرکے دنیوی معاملت کہاں جائز ہے حضور نے بہت سی شرائط سے مشروط کرکے گول مول جواب عنایت فرمایاہے لیکن اس وقت ضرورت ہے ایسے فتوے کی جو صا ف صاف لفظوں میں حالات حاضر ہ پر نظر کرکے بغیر کسی شرط کے لکھا جائے تاکہ ہر عالم وجاہل جو آپ کا پیرو ہے فورا پڑھ کر جان لے کہ اس کے واسطے اب ایسا کرنا ضروری ہے،حالات حاضرہ حضورپر بخوبی روشن ہیں اور کچھ تھوڑے سے میں نے اوپر بیان کئے ہیں،کیا مسلمانوں کابھرتی ہوکر فوج میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے اور غلام بنانے کے لئے جانااور دوسرے کلرکوں کا ان کی امداد کے لئے عراق وشام وغیرہ میں ملازمت ہوکر جانا جائزہے،اگر جاناجائز نہیں تو پھر آپ جیسے بزرگ کیوں چپ چاپ بیٹھے ہیں۔کیوں نہیں ایسے فتوے شائع کرتے اور اظہار حق میں دنیوی طاقت سے کیوں ڈرتے ہیں،موجود ہ وقت کھینچ تان کر کفارسے تعلق رکھنے اور ان کی اعانت کرنے کا جواز ثابت کرنے کا نہیں ہے بلکہ سینہ سپر ہوکر بے خوف وخطر لوگوں کو صراط مستقیم بتانے کاہے،حضور نے جو لکھا ہے کہ الحاق اور اخذ امداد جائزہے،اگر کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ ہو،عالیجا ہ! گورنمنٹ جوا مداد سکولوں اورکالجوں کو دیتی ہے وہ خاص اغراض کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہے اور میرا خیال ہے کہ حضور کو سب حال روشن ہوگا لیکن اگر اس بارے میں ناواقفیت ہو تو میں عرض کرتاہوں کہ اول تو امداد میں اس قسم کی شرط ضرور ہوتی ہے کہ کالج کا پرنسپل اور ایك دو پروفیسر انگریز ہوں،دوسرے مقررہ کورس پڑھائے جائیں جن میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خلاف اسلام باتیں ہوتی ہیں بلکہ بعض میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تیسرے دینی تعلیم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع