30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال اﷲ تعالٰی" وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ"[1] (وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا)وقال اﷲ تعالٰی " وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا"[2]۔وقال اﷲ تعالٰی " اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمْ یَنۡقُصُوۡکُمْ شَیْـًٔا وَّلَمْ یُظٰہِرُوۡا عَلَیۡکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمْ عَہۡدَہُمْ اِلٰی مُدَّتِہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾"[3] وقال تعالٰی " وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾"[4]وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)الصلح جائز بین المسلم الاصلحا احل حراما او حرم حلالا [5]،وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتغدروا [6]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اورحلال ہیں تمھارے لئے پارسا عورتیں ایمان والیوں میں سے اور ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم ان کے مہر دو(اور اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے)اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف میل کرو۔سب کافروں کو قتل کرو مگر وہ مشرك جن سے تمھارا معاہدہ ہولیا،پھر انھوں نے تمھارے حق میں کوئی تقصیر نہ کی اور تم پر کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تك پورا کرو بیشك اﷲ پرہیزگاروں کو دوست رکھتاہے عہد پورا کرو بیشك عہد پوچھا جائے گا،اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے مسلمانوں میں صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہ کرے،اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:بدعہدی نہ کرو۔ |
وہ الحاق واخذ امداد اگر نہ کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجر،تو اس کے جواز میں کلام نہیں، ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا مگر یہ عدم جواز اس شرط یا لازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریم مطلق معاملت جس کے لیے شرع میں اصلا اصل نہیں اور خود ان مانعین کا طرز عمل ان کے کذب دعوی پر شاہد،ریل تار ڈاك سے تمتع کیا معاملت نہیں ہے،فرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع