30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسعہ اکلہ [1]۔ |
گنجائش ہے(کہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے) |
درمختار میں ہے:
|
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم [2]۔ |
بادشاہ اسلام اگر کسی کافر کو قاضی بنائے کہ ذمی کافروں کے مقدمے فیصل کرے تو جائز ہے اسے زیلعی نے باب تحکیم میں ذکر کیا۔ |
محیط میں ہے:
|
قال محمد مایبعثہ ملك العدومن الھدیۃ الی امیر جیش المسلمین اوالی الامام الاکبر وھومع الجیش فانہ لاباس بقبولہا ویصیر فیئا للمسلمین وکذلك اذا اھدی ملکھم الی قائدمن قواد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا [3]۔ |
امام محمد نے فرمایا دشمنوں کا بادشاہ جو ہدیہ مسلمانوں کے سپہ سالار یاخلیفہ حاضر لشکر کوبھیجے اس کے قبول میں حرج نہیں تو وہ سب مسلمانوں کے لئے مشترك ہوجائے گا یونہی جب ان کا بادشاہ مسلمان کے کسی فوجی سردراکو ہدیہ بھیجے جس کے پاس فوج ہو اگر کسی اسلامی سردارکو کوبھیجا جس کے پاس اس وقت فوج نہیں تو ہدیہ خاص اسی سردار کی ملك ہوگا۔ |
اسی میں ہے:
|
لوان عسکرامن المسلمین دخلوا دار الحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذٰلك لو ان امیر الثغور اھدی الی ملك العدوھدیۃ و اھدی ملك العدوالیہ ھدیۃ [4]۔ |
اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سردار لشکر کچھ ہدیہ دشمنوں کے بادشاہ کو بھیجے اس میں حرج نہیں اور یونہی اگر سرحدوں کا سردار دشمنوں کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ بھیجے اور دشمنوں کا بادشاہ اسے ہدیہ بھیجے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع