30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ساتھ الحاق قائم رہنے سے اور امداد لینے سے معاملت قائم رہتی ہے نہ کہ موالات جس کے معنی محبت کے ہیں نہ کہ کام کے۔جو کہ معاملت کے معنی ہیں،مذکور کی اس زبردستی سے اسلامیہ کالج تباہ ہورہا ہے مولوی محمود حسن صاحب مولوی عبدالحی صاحب تودیوبندی خیالات کے ہیں زبردستی فتوے اپنے مدعا کے مطابق دیتے ہیں لہذا میں فتوے دیتاہوں کہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق اور امداد لینا جائز ہے میرے فتوے کی تصحیح،ان اصحاب سے کرائیں جو دیوبندی نہیں مثلا ملت طاہرہ حضرت مولانا مولوی شاہ احمد رضاخاں قاری صاحب بریلوی علاقہ روہیل کھنڈ اور مولوی اشرف علی تھانوی ممالك مغربی وشمالی
الجواب:
موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے دنیوی معاملت میں جس سے دین پر ضرر نہ ہو سو امرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں۔ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے:
|
لھم مالنا وعلیہم ماعلینا۔ |
ان کے لئے ہے جو ہمارے لئے اور جو ان پر ہے ہم پر۔ |
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشت)پر کا فتوٰی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجا کرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقر نیاز مند کے نام بواپسی ڈاك اگر ممکن ہوسکے یا کم از کم دوسرے روز بھیج دیں،انجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروز اتوار بتاریخ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو منعقد ہوتاہے اس میں پیش کرنا ہے کہ دیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کے کاموں میں روڑہ اٹکانے کی ٹھان لی ہے ﷲ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداﷲ ماجور ہوں۔نیاز مند ودعاگوے حاکم علی بی اے موتی بازار لاہور ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء
جواب خط مولوی صاحب: مکرم کرم فرما
. جناب مولوی حاکم علی صاحب بی اے سلمہم بعد اہدائے ہدیہ مسنونہ ملتمس کل گیارہ بچے آپ کا فتوٰی آیا اس وقت سے شب کے بارہ بجے تك اہم ضروریات کے سبب ایك حرف لکھنے کی فرصت نہ ہوئی،آج صبح بعد وظائف یہ جواب املا فرمایا امید کہ مجموعہ فتاوٰی کی نقل کے بعد آج ہی کی ڈاك سے مرسل ہو،اور مولٰی تعالٰی قادر ہے کہ کل ہی آپ کو پہنچ جائے،مامول کہ وقت پر موصول ہونے سے مطلع فرمائیں والسلام فقیرمصطفی رضاقادری نوری عفی عنہ ۱۵ صفر المظفر ۱۳۲۹ھ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع