30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر ہے:"ہم اس وقت اعانت بمال کو مسلمانان ہند پر فرض نہیں سمجھتے بوجہ عدم استطاعت"۔یہ عذر کیسا بھی ہو مگر ذرائع وصول مہیا ہونا اور وصول پروثوق کے ساتھ اطمینان ملنا بہت ضرور ہے نہ ایسا کہ لاکھوں کے چندے ہوئے اور باوصف کثرت تقاضا____اب تك حساب بھی نہیں دیتے۔
(۴)معاملت حرام کا ترك ہمیشہ سے واجب تھا اور نہ کیا اب جائز کا ترك بھی فرض کررہے ہیں،یہ شرع پر زیادت ہے پھر بھی جائز کا ترك ہر وقت جائز ہے جب کہ کسی مخطور کی طرف منجر نہ ہو اس کاناممکن یا نامفید ہونا المحجۃ المؤتمنہ ص۸۷ سے ۹۲ تك ملاحظہ ہو،باتیں وہ بتائی جاتی ہیں جن پر تمام ملك ہر گز کاربند نہ ہوگا،نہ صرف تمام مسلمان اور بفرض غلط سب مسلمان مان بھی لیں تو بجائے نفع مضر،پھر باطل و نامتوقع پر عام عمل اگر متخیل بھی ہو تو مدید وطویل مدتیں درکار،اور حاجت اس وقت فوری تاتر یاق از عراق کی مثل ہے۔
(۵)فتنہ وفساد پھیلانے کی نامفیدی ظاہر،اب تك سواء بعرض ذلتوں کے کیا حاصل ہوااور یہ کھلا پہلو اس کے شرعًا بھی ناجائز ہونے کا ہے،حدیث میں ہے:
"مسلمان کو روانہیں کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے"۔
خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۷ میں ہے:
"اس میں شك نہیں کہ اہلاك نفس بلاضرورت جائز نہیں،قانون جن امور کو روکتا ہے ان کو نہ کرنے میں ہم کو عذر ہے"۔
(۶)رہی خالی چیخ پکار،آفتاب سے زیادہ آشکار کہ محض بے سود وبیکار،ملك چیخنے پکارنے سے واپس نہیں ہوتا وہ بھی اتنا وسیع،و ہ بھی ہلال کا،وہ بھی صلیب سے،ورنہ اگلے علماء و مشائخ نے ہندوستان ہی چلاچلا کرپھیر لیاہوتا،یا مولوی عبدالباری کے بزرگوں نے چیخ پکار کر یہی ذراسی لکھنؤکی پڑیا،کیا ان کو درد اسلام نہ تھا،تھا مگر عقل بھی تھی کہ مہمل شوروغل سے کیا حاصل ہوگا،خود آزاد کے الہلال جلد۱۲ص۱۶میں ہے:"زبان سے نالہ وفریاد کرنے کی صورتیں اسی وقت تك کے لئے ہیں جب تك ان سے کشود کار ممکن ہو"۔
(۷)خیر یہاں تك تو تھا جو کچھ تھا،قیامت کا بند تو ہے کہ خلافت کی حمایت واماکن مقدسہ کا نام لے کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع