30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سراپاخیر خواہی ہے۔ت)ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم مشروط بہ استطاعت،
|
قال اﷲ تعالٰی" لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اﷲ تعالٰی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا(ت) |
جو شخص حفاظت اسلام و سلطنت اسلام و اماکن مقدسہ کی استطاعت رکھتا ہے اور کاہلی سے نہ کرے مرتکب کبیرہ ہے یا کفار کی خوشامد وخوشنودی کے لئے تو مستوجب لعنت ہے یادل سے ضرر اسلام پسند کرنے کے سبب تو کافر ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا معذور ہے،شریعت اس کام کا حکم فرماتی ہے جو شرعًا جائز اور عادۃً ممکن اور عقلًا مفید ہو،حرام یا ناممکن یا عبث،افعال حکم شرع نہیں ہوسکتے لہذا:
(۱)مسلمانانِ ہندو کو جہاد کا ہرگز حکم نہیں،المحجۃ المؤتمنہ میں اسے واضح کردیا ہے حتی کہ خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۲۷میں ہے:
"میں کشت وخون کو خصوصًا مجتمع حملہ کی صورت جیسا کہ لشکر کرتا ہے غیر مفید سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے اسباب مجتمع نہیں غیر قادرین پر فرض نہیں بدسگالی کی غرض سے کرسکتے ہیں اس کا ضرر ہوگا۔"
(۲)ہندوستان دارالاسلام ہے،ا س میں فقیر کا رسالہ اعلام الاعلام مدتوں سے شائع ہے اور خودمولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۱۷میں ہے:
"ہم لوگوں کا مسلك یہ ہے کہ ہندوستان دارالاسلام ہے"۔
اور شك نہیں کہ دارالاسلام سے ہجرت عامہ کا حکم ہرگز شرع مطہر نہیں فرماتی،نہ عادۃً وہ ممکن نہ کچھ مفید کہ سب مسلمان اپنی جائدادیں یونہی نصارٰی کے لئے چھوڑ جائیں یا کوڑیوں کے مول ہندوؤں کو دی جائیں اورخود کروڑوں ننگے بھوکے اور ملك کے مسلمانوں پر ڈھٹی دیں ان کی عافیت بھی تنگ کریں یا بھوکے مرجائیں اور اپنی مساجد و مزارات اولیاء پامالیِ کفار ومشرکین کے لئے چھوڑجائیں اور یہ سب کچھ اوڑ بھی لیاجائے تو اس سے سلطنت اسلام کو کیا فائدہ،اور اماکن مقدسہ کا کیا نفع اور ہجرت بعض کا بے سود ہونا بھی عقلًا تومعلوم تھا ہی،اب تجربۃً مشہور بھی ہولیا سوا ان غریب مسلمانوں کی بے سرو سامانی وآوارگی وپریشانی وحسرت وپشیمانی کے اور بھی کوئی فائدہ مترتب ہوا۔
(۳)مالی امداد البتہ ایك چیز ہے اگرچہ مولوی عبدالباری اس کے بھی منکر ہیں۔رسالہ ہجرت ص۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع