30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائم رکھا اور ہر طرح سے ان کفریات کی حمایت کرتے رہے،اور عملیات میں حنفی ہونا ظاہر کیا،ٹھیك اسی طرح جس طرح ان کا امام اول حنبلی المذہب بنتا تھا،بظاہر غیر مقلدین کے ردمیں کتابیں بھی لکھیں،مگر ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ ان مسائل میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے وقت سے اختلاف چلا آتا ہے،لہذا غیرمقلدوں ووہابیوں پر طعن وتشنیع ناجائز (سبیل الرشاد وغیرہ)،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم سے شیطان کا علم زیادہ مانا(براہین قاطعہ)علم غیب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر صبی ومجنون سے تمثیل دی(رسالہ حفظ الایمان وعلم غیب وغیرہ)اور بکے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیوار کے پیچھے کا حال معلوم نہیں،معاذاﷲ اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔ان کے ردمیں بھی بکثرت کتابیں شائع ہوئیں خصوصًا قامع بدعت حامی سنت صاحب حجت قاہرہ مجدد مائہ حاضرہ،حضرت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی مداﷲ تعالٰی ظلہم العالی نے ان کی وہ سر کو بی کی کہ باید شاید۔
(۷)بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك ہندو بچہ پیدا ہواآپ اگرچہ ناخواندہ تھا مگر بعض خواندہ وہابیہ سے چند ایك کتابیں مثل ظفر المبین طعن امام ہمام(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)اور قیاسات امام پر لکھیں چاروں اماموں کے مقلدین اور چاروں طریقوں کے متبعین کو معاذ اﷲ مشرك و کافر بنایا(ظفر المبین ص۱۸۹و۲۳۰و۳۳۲وغیرہ)انجام کا ر مرض ابلاؤس میں ایسا گرفتار ہوا کہ متواتر پانچ سات دن اس کے منہ سے پاخانہ نکلتا رہا،مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مشرکوں(حنفیوں)کے قبرستان میں نہ دفن کیاجائے،بالآخر کتے کی موت مرا اور لاہور یکی دروازہ بدرو کے کنارہ دفن ہوا،بدروکا گندہ پانی اس کی قبر میں سرایت کرتا رہا،حتی کہ اس کی قبربھی نیست ونابود ہوکر بدرو میں مل گئی،"،" فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصٰرِ ﴿۲﴾"[1] (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۸)اس بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك اور شخص نکلا،چلنے پھرنے سے معذور،اور لکھنے پڑھنے سے عاری،اس نے اہل قرآن ہونے کا دعوٰی کیا،کل کتب فقہ،تفسیر وحدیث سے انکار کیا اور کہا یہ سب مخالفِ قرآن ہیں اور(معاذاﷲ)منافقوں کی بنائی ہوئی ہیں،"اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ"[2] (اور حکم مانو رسول کا۔ت)میں رسول سے مراد قرآن مجید ہے،اور"وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ"[3] (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں۔ت)میں بھی رسول سے مراد قرآن مجید ہے،اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مراد لئے جائیں تو یہ حکم مالِ غنیمت میں تھا نہ کہ عام حکم، نمازمیں بھی نئی اختراع کی،المسمی بہ صلوٰۃ القرآن بآیات الفرقان،اور ایك تفسیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع