30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولاد کی مانند ہے،تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ت)(واقع البلد ص۶و۷)الغرض افتراء وتکذیب کلام الٰہی وتوہین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خصوصًا حضرت عیسی علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو گندی سڑی گالی دینے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی(ضمیمہ انجام آتھم)انجام کار اپنے مسلمہ عذاب اعنی مرض ہیضہ سے وعدہ الٰہی:
|
" فَلَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ تَوْصِیَۃً وَّ لَاۤ اِلٰۤی اَہۡلِہِمْ یَرْجِعُوۡنَ ﴿۵۰﴾٪ "[1]۔ |
تو نہ وصیت کرسکیں گے ا ور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں۔(ت) |
کاموردبنا اور اپنے منکر ومخالف علماء کے روبرو وہ فرعون بے عون جہنم رسید ہوا،مسلمان کے سامنے
" وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنۡتُمْ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۵۰﴾"[2] (اور فرعون والوں کو ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔ت)کا سماں بندھ گیاچاروں طرف سے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں نے اس کی نعش خبیث پر نفرین کے نعرے بلند کئے ہر طرف سے بول وبرازکی بوچھا ڑ ہوئی اور" اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمْ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ﴿۱۶۱﴾ۙ "[3] (ان پر لعنت ہے اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی)کا نقشہ آنکھوں میں جم گیا،" فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصٰرِ ﴿۲﴾"[4] (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۵)امام ثانی کے اذناب سے ایك بھوپالی پیدا ہوا،ترویج وہابیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا طرح طرح کے لالچ دے کر مفت کتابیں بانٹ کر خدائے تعالٰی کے لئے جہت ومکان و جسم وغیرہ مانا(رسالہ الاحتواء)فقہاء ومقلدین کو دشنام دینے میں اپنے بڑوں سے سبقت لے گیا اس کا قول بدتر ازبول"یہ ہے سرچشمہ سارے جھوٹوں خبیثوں اور مکروں کا اورکان تمام فریبیوں اور دغابازیوں کی علم فقہ ورائے ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا فقہاء اورمقلدین کی بول چال ہے"(ترجمان وہابیہ ص۳۵،۳۶)وانجام کار معزول ومسلوب الخطاء ہو کر عدم کی راہ لی اور" خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ؕ"[5] (دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا۔ت)کا مصداق بنا،صحابہ کرام کو عمومًا اور سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو خصوصًا مخترع بدعت سیئہ ٹھہرایا(انتفاد الرجیم)
(۶)وہابیہ وغیر مقلدین کی ضلالت وبدعت جب پورے طور ظاہر ہوچکی اور ہر دیار وامصار سے ان کے رد میں کتابیں لکھی گئیں تو ذریاتِ امام ثانی نے ایك اور مکر کھیلا،اپناحنفی و مقلد ہونا ظاہر کیا عقیدہ تقویۃ الایمان پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع