30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذہب کی کیا حاجت،تو ضرور یہ مراد ہے کہ ایك ایسا مذہب ایجاد کریں گے جو نہ ہندو کو ہندو رکھے نہ مسلمان کو مسلمان،اور وہ نہ ہوگا مگر کفر کہ اسلام کے سو اجوکچھ ہے سب کفر ہے،یونہی پریاگ وسنگم کی تقدیس یوں مراد نہیں ہوسکتی جیسے سلاطین اسلام شکر اﷲ تعالٰی عنہم نے معابد کفار پر قبضہ فرماکر ان کو مساجد بنایا کہ اس کے لئے بھی نیا مذہب بنانا نہ ہوا،لاجرم یہ مراد ہے کہ وہ رہیں معابد کفار اور پھر مقدس مانے جائیں،اور یہ بھی کفر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(نوٹ:۶سے۱۶تك کے جواب دستیاب نہ ہوئے)
مسئلہ۱۵۴تا۱۶۲:ازلاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ صوفی احمد دین صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
|
الحمد ﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی۔اما بعد یا علماء الملۃ وامناء الامۃ افیضوا علینا من علومکم دام فیوضکم۔ |
تمام تعریف اﷲکے لئے اور وہی کافی ہے،سلام اس کے منتخب بندوں پر ہو،اے علماءِ ملت اور امین امت!ہمیں اپنے علوم کافیض عطا کیجئے اﷲ تعالٰی تمہارے فیض کو جاری وساری رکھے(ت) |
(۱)اس ظالم گروہ کا کیا حکم ہے جن کے امام اول نے سلطان وقت سے باغی ہوکر مکہ معظمہ زاد اﷲ تعالٰی شرفًا پر تغلب کیا،وہاں کے علماء کوتہ تیغ بے دریغ کیا،مزارات اولیاء پر پاخانہ بنائے،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارك کو صنم اکبر سے تعبیرکیا،ائمہ مجتہدین اور فقہاء ومقلدین کو انھم ضلواواضلوا(وہ گمراہ ہیں اور انہیں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ت)کا مصداق بنایا،اپنی خواہشات کو حق وباطل کا معیار قرار دیا،مختلف عبارات وپیرایہ سے حضور پر نور عفوغفور شفیع یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تنقیصِ شان کرتا تھا اور اسی بدعقیدہ پر اپنی ذریات واذناب کو لگا تھا،اپنے متبعین کے سوا سب کو مشرك جانتا تھا،درود شریف پڑھنے سے بہت ایذاپاتا تھا،حتی کہ ایك نابینا کو منارہ پر بعد اذان صلوٰۃوسلام پر شہید کردیا اور بولا:
|
ان الربابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم [1]الخ۔ |
زانیہ کے گھر رباب بجانا اس سے کم گناہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام پڑھاجائے الخ (ت) |
اس کے متبعین طرح طرح سے حضور علیہ السلام کی تحقیر وتوہین کرتے اور وہ سن کر خوش ہوتا یہاں تك
|
ان بعض اتباعہ کان یقول عصای ھذہ |
اس کے بعض ماننے والے کہتے ہیں یہ میری لاٹھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع