30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دخل رکھتا ہے۔
رابعًا غیر اسلامی سلطنت اور نامسلموں کی کثرت میں ا جازت کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے۔
خامسًا وہ نجس قوم کہ بنص قرآن اس پر حکم نجاست ہے اور وہ مسلمانوں کو ملیچھ کہے،بھنگی کے مثل سمجھے سودا بیچے تو دور سے ہاتھ میں رکھ دے،اس کے نجس بدن،ناپاك پانوؤں کے لئے تم اپنی مساجد کو وقف کرو یہ کس قدر مصلحتِ اسلام کے گہرے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے،ان سب سے قطع نظر ان حرکاتِ شنیعہ کا اس سے کیا علاج ہوسکتا ہے ؎
او گماں بردہ کہ من کردم چو او
فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس کی مثل کیا حالانکہ وہ لڑائی کی جستجو کرنے والا اس فرق کو کیسے محسوس کرسکتا ہے)
صحیح بخاری شریف میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے:
|
قَالَ کَانَتِ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تعالٰی علیہ وَسَلَّمْ[1]۔ |
فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے(ت) |
زمانہ رسالت میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے اب تم خود کتے اپنی مسجدوں اور مسجد الحرام شریف یا مسجد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں لے جاؤ اور جمعہ کے دن امام کے دہنے بائیں منبر پر دو کتے بٹھاؤ تمہارے استدلال کی نظیر تو یہیں تك ہوگئی،کہہ دینا کیا زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں نہ آتے جاتے تھے،ہم لے گئے اور منبر پر انہیں بٹھایا تو کیا ہوا،اور وہ جو آنے جانے اور یوں لے جانے اور منبر پر بٹھانے کا فرق ہے اس سے آنکھ بند کرلینا جیسے یہاں بند کرلی،کون سی آنکھ،دل کی کہ" وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾"[2] (دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ت)بلکہ خدا تمہیں عقل وانصاف دے تو یہ بھی تمہارے فعل کی نظیر نہیں،تم خطیب کے آس پاس منبر پر کتے بٹھاؤ اس سے وہ کتے خطیب نہ ہوجائیں گے،اور تم نے مشرکین کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع