30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم پر افترائے فجار،حاشا کہ اﷲ کا رسول گوبار بار فرمائے کہ کسی مسجد،نہ کہ خاص مسجد مدینہ کریمہ میں نہ کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے بتوں یا مسیح کی عبادت کی جائے،جانتے ہوکہ اس سے ان کا مقصود کیا ہے،یہ کہ مسلمان تواسی قدر پر ناراض ہوئے ہیں کہ مشرك کو مسجد میں مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے ان کو واعظ بنایا وہ تو اس تہیّہ میں ہیں کہ ہندوؤں کو حق دیں کہ مسجد میں بت نصب کرکے ان کی ڈنڈوت کریں،گھنٹے بجائیں،سنکھ پھونکیں کیونکہ ان مفتریوں کے نزدیك خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد میں خود حضور کے سامنے کفار اپنے طریقہ کی عبادت کرتے تھے۔
|
" وَ یۡلَکُمْ لَا تَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ۚ"[1]۔ |
تمہیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاك کردے۔(ت) |
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاﷲ بطوراستیلا واستعلاء نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطے،کہاں یہ اور کہاں وہ جو بدخواہان اسلام نے کیا کہ مشرك کو بروجہ تعظیم مسجد میں لے گئے اسے مسلمانوں سے او نچا کھڑاکیا اسے مسلمانوں کو واعظ وہادی بنایا اس میں مسجد کی توہین ہوئی اور توہین مسجد حرام،مسلمانوں کی تذلیل ہوئی اور تذلیل مسلمین حرام،مشرك کی تعظیم ہوئی اور تعظیم مشرك حرام،بدخواہی مسلمین ہوئی بلکہ بدخواہی اسلام،پھر اسے اس پر قیاس کرنا کیسی سخت ضلالت و گمراہی ہے طرفہ یہ کہ زبانی کہتے جاتے ہیں کہ مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آنا ضرور حرام ہے،اور نہیں دیکھتے کہ یہ آنا بطور استعلا ہی تھا،
|
" فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصٰرُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾" [2]۔ |
تو یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں(ت) |
اسی نابینائی کی بناء پر یہ مسلمان کو دھوکا دینے والے یہاں،حنفیہ وشافعیہ کا اختلافی مسئلہ کہ مسجد میں دخول کافر حرام ہے یانہیں محض دھوکا دینے کو پیش کرتے ہیں،قطع نظر اس سے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔
اولًا خود کتب معتمدہ حنفیہ سے ممانعت پیدا ہے،
ثانیًا خود محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد سے ہویدا ہے۔
ثالثًا علماء وصلحاء کا ادب کیا رہا ہے اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم ہمیشہ مائل تعظیم وتوہین میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع