30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذہ کلہا وان لم تتضمن سباولاقصد قائلھا ازراء فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ الاصطفاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی شبہ من شبہ فی معرۃ قصد الانتفاء منھا بمن عظم اﷲ خطرہ ونھی عن جھر القول لہ ورفع الصوت عندہ فحق ھذا ان دری عنہ القتل السجن وقوۃ تعزیرہ[1]۔(ملخصًا) |
یہ تمام کلام اگرچہ سب و شتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی قائل نے اس سے کسی عیب کا قصد کیا ہے بہر حال اس نے نہ تو منصب نبوت ورسالت کا خیال رکھا ہے نہ ہی حرمت کا اقرار کیا ہے حتی کہ روانی کلام میں شاعر نے اپنے ممدوح کو عیب سے پاك ہونے کا قصد کرتے ہوئے اس ذات سے تشبیہ دی جس کی قدر ومنزلت کو اﷲ تعالٰی نے عظیم فرمایا،اور اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ رب العالمین نے ان کی بارگاہ میں بلند آواز سے بولنے کی ممانعت فرمائی،اس سوءِ ادبی کی سزا اگرچہ قتل نہیں ہے تاہم قید بامشقت کی سزا دینا ضرور ی ہے(ملخصًا)(ت) |
سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر معاذاﷲ انہونی جوڑنا اور اس نے اپنی ناپاکی کا جواز چاہیں،کتنی سخت خباثت اور کس قدر شدید موجب لعنت ہے،کیا کسی عالم دین کا وہ ناسعید بیٹا سخت ناخلف نہ قرار پائے گا جس کے بھنگ پینے پر اس کے باپ کے شاگرد اعتراض کریں اور وہ اپنے اوپر سے دفع اعتراض کے لئے محض جھوٹ بہتان اپنے باپ پر رکھ دے کہ کیا تمہارے استاد چرس نہ پیتے تھے،پھر کہاں باپ اور کہاں سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم !
(۳)یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایك خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اﷲ عزوجل پر صریح افتراء ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی" اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ۚ "[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مشرك نرے ناپاك ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(ت) |
یونہی یہ کہنا کہ وفود کفار مسجد نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہے،اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسے جائز رکھنے کا اشعار حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع