30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کے رب کا ابتدائی حکم یہ تھا:
|
" فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾"[1] |
اعلان کے ساتھ فرمادو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔ |
اور انتہائی حکم یہ ہوا۔
|
" یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ ؕ "[2] |
اے نبی !تمام کافروں اور منافقوں سے جہاد فرما اور ان پر سختی ودرشتی کر۔ |
معاذ اﷲ موالات کا وقت کون ساتھا،سورہ نۤ شریف مکیہ ہے ا س میں فرماتا ہے:" وَدُّوۡا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوۡنَ ﴿۹﴾"[3] کافر اس تمنا میں ہیں کہ کہیں تم کچھ نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑیں۔اس وقت میں مداہنت تو روارکھی نہ گئی نہ کہ معاذا ﷲ موالات۔ائمہ دین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت مداہنت کرنے والے کی تکفیر فرمائی ہے چہ جائے مفتری موالات،شفاء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
|
الوجہ الثانی ان یکون القائل غیر قاصد للسب ولکنہ تکلم بکلمۃ الکفر من اضافۃ مالایجوز علیہ مثل ان ینسب الیہ اتیان کبیرۃ اومداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ او فی حکم بین الناس فحکم ھذا الوجہ حکم الاول[4]۔ (ملخصًا) |
دوسری وجہ یہ ہے کہ کہنے والے کا مقصد سب نہ ہو لیکن اس نے ایسا کلمہ کفر بولا اور ایسی شیئ کی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جو آپ کی شان کے مناسب نہ تھی مثلًا کبیرہ کے ارتکاب یا احکام رسالت کے پہنچانے میں یا لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمانے میں مداہنت کی نسبت کی تو اس کا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ت) |
سخت محرومی و بیباکی ہے،یہ کہ آدمی کے کسی عیب پر نکتہ چینی ہو اور وہ اپنے اوپر سے دفع الزام کے لئے کسی نبی سے استشہاد کرے کہ ان سے بھی ایسا واقع ہو ااگرچہ ظاہر ًا وہ فعل وقوع میں آیا ہو اور اس نے اپنی نابینائی سے فرق نہ دیکھا اور ملائکہ کو چمار پر قیاس کیا۔شفا ء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع