30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۴۸تا۱۵۳: ازشہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۹محرم ۱۳۳۹ھ
جس طرح کہ ایران میں باب اور بہاؤ کو پیشروبناکر بابی وبہائی جدید فرقے بنائے گئے اور ہندوستان میں گرو نانک،کبیر،سید احمد جونپور،سید احمد رائے بریلوی،سید احمد کولی،آغا خاں اور مرزائی قادیانی کو پیشوا،مہدی،لیڈر،نبی اور خدابناکرجدید فرقے بنائے گئے۔اسی طرح اس وقت محض برائے نام مسلمان لیڈروں اور مولویوں نے ایك ہندو لیڈر مسٹر گاندھی کو اپنا پیشوا بناکر ایك جدید فرقہ بنایا ہے اور ان کی نسبت اب تك بذریعہ اخبارات،رسالہ جات،اشتہارات،مشاہدات اور مسموعات امور ذیل معلوم ہوتے ہیں:
(۱)ایك مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك سفر میں ایك کافر کو اپنا رہنما بنایا تھا اسی طرح ہم نے مسٹر گاندھی کو اپنا ہادی بنایا ہے،اور صاف لکھ دیا کہ ہمارا حال اس شعر کا مصداق ہے ؎
عمرے کے بآیات واحادیث گزشت
رفتے ونثار بت پرستی کردے
(وہ عمر جو آیات واحادیث میں گزری ہے وہ ختم ہوگئی اور وہ بت پرستی کی نذر کردی)
(۲)کہتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرب کے کافر قبائل سے موالات کی تھی ہم کفارِ ہند سے موالات کرتے ہیں۔
(۳)مسجد میں ہندوؤں سے منبر پر لکچر دلوائے گئے اور کہا گیا کہ مسجد نبوی میں وفودِ کفار قیام کرتے تھے اور اپنے طریقے پر عبادت بھی کرتے تھے،اور کفار کا داخلہ مخصوص بمسجد الحرام ایك خاص وقت کے واسطے منع تھا۔
(۴)بعض لیڈروں نے جن کو مولانا کا بھی خطاب دے دیا گیا ہے مندروں میں جاکر اپنے ماتھوں پر ہندوؤں سے ٹیکے لگوائے۔کہتے ہیں کہ قشقہ شعار کفر اور منافی اسلام نہیں ہے۔
(۵)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے ہمدم میں چھاپ دیا ہے کہ ہماری جماعت ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو ہندو مسلم امتیاز اٹھادے گا اور سنگم و پریاگ کو مقدس مقام بنائے گا پارٹی مذکور نے اسے مقبول رکھا اور کسی نے چون وچرا نہ کیا۔
(۶)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے شائع کیا ہے کہ اگرآج تم نے ہندو بھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کروگے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع