30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہا جاتا ہے کہ طریقہ اسلام پر ہوجاؤ اور شرك وشراب سے اجتناب کرو،تو کہتے ہیں کہ یہ ہم سے چھوٹ نہیں سکتے ہیں،ہمارے آباء واجداد سے یہ طریقہ جاری ہے اور کلمہ پڑھنے سے پورا نکار ہے نہ کما حقہ اقرار برسوں سے ان کی راہ ہدایت کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ قوم اپنی حرکاتِ ناشائستہ سے باز نہیں آتی،ایسی حالت میں ان مشرکوں،شراب خوروں،دزدوں کی نماز جنازہ و نکاح وغیرہ جائز ہے یاکیونکر؟ اسی طرح جو تھوڑے عرصہ میں کہیں سے سونا لے آتے ہیں اس کے روپے کو مسجد کی تعمیر ومیلاد ومصرف کا رخیر میں لگانا جائز ہے یانہیں؟اور مسلمانوں کو یہ مال کیساہے؟تو نکاح پڑھانے والا اور اس مال کالینے والاگنہگار ہوگا یانہیں؟ بالتفصیل ارقام فرمائیں،رب العزت آقائے نامدار کو فی الدارین جزائے خیر عطا فرمائے۔
الجواب:
یہ لوگ اگر باوصف ان حرکات کے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مرتد ہیں ورنہ کافر مشرک،بہر حال سے شادی بیاہ حرام وزنا اور ان کے جنازہ کی نماز حرام قطعی،اور ان سے کوئی برتاؤ مسلمانوں کا سارکھنا حرام،رہا نکاح پڑھانا اگر پہلی صورت کے ہیں جب تو ان کا نکاح کسی سے ممکن ہی نہیں،نہ مسلمان سے نہ کافر سے،نہ اس کے ہم مذہب مرتد سے،نہ اس کے مرد کا نہ عورت کا۔اور اگر دوسری صورت کے ہیں تو مسلمان عورت کا ان سے یا مسلمان مرد کا ایسی عورت سے نکاح باطل وحرام ہے ان صورتوں میں نکاح پڑھانے والا زنا کا دلال ہے اور اگر وہ مرتد نہیں اصلی کافرہیں تو ان کے عورت و مرد کا نکاح اگرچہ کسی کافر یا کافرہ سے ہوسکے مگر مسلمان کو اس کاپڑھانا نہ چاہئے وہ سونا کو جلد لے آتے ہیں اگر معلوم یا گمان غالب ہوکہ چراکر یا ٹھك کرلاتے ہیں تو اس کالینا بھی حرام اور اسے مسجد یا میلاد مبارك یا کسی کارخیر میں صرف کرنا بھی حرام،اگر اس کا گمان غالب نہیں شك ہے تو بچنا بہتر اور لیں اور لگائیں تو گناہ نہیں،
|
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما لعینہ[1]، ذخیرہ،ہندیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
امام محمد فرماتے ہیں ہم اس پر عمل پیرا ہیں،جب تك کسی شیئ کو ہم حرام لعینہ نہ جان لیں،ذخیرہ،ہندیہ۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع