30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دہلوی کے فتوے سے سجدہ کو جائز ثابت کرتاہے اور درمختار کو بے اصل ثابت کرتا ہے کیونکہ چھٹے طبقہ کی کتاب ہے۔امام فخر الدین رازی کے حوالہ سے اس رسالہ کو لکھا ہے اور کہتا ہے کہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد میں ہے سجدہ کرنا اﷲ کے سوا دوسرے کو جائز ہے،اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان؟
الجواب:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں،علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
|
من شك فی کفرہ فقد کفر[1]۔ |
جس نے اس کے کفر میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت) |
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔دربارہ سجدہ حق وتحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام،کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں واﷲ الہادی،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۲: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ حشمت علی صاحب ۱۶ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فرقہ دیوبندیہ کا مرتکب کفر ہونا تسلیم کرتا ہے،لیکن کہتا ہے کہ اپنی زبان سے ان کو کافر نہ کہوں گا،دریافت کرنے پر کہا کہ فی الواقع دیوبندیوں نے کفر بکا ہے،لیکن دیکھاجائے تو خود ہم پر کفر عائد ہوتا ہے کیونکہ کفر کی دو قسمیں ہیں:
(۱)کفر قولی (۲)کفر فعلی
کفر قولی یہ کہ کسی نے ایسی بات کہی جس میں ضروریات دین کا انکار ہو،جیسے دیوبندیوں نے توہین خدا ورسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)کی بکی۔
اور کفر فعلی یہ کہ جو انکار ضروریات دین پر امارت ہو جیسے زنا رباندھنا،بت کو سجدہ کرنا وغیرہ،اب دیکھئے اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع