30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی میں مذکور ہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۹۶: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمر الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب فرماتے ہیں کہ رسول خداخدا کے بندے نہیں ہیں اور آپ بشر بھی نہیں ہیں،اس پر ان سے پوچھا گیا کہ پھر کیا ہیں؟تو جوابدیا کہ میں اس معاملہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا،اور یہ بھی ان سے پوچھا گیا کہ رات دن نماز میں قعدہ میں تم عبدہ ورسولہ پڑھتے ہو،یہ کیا ہے کیا اس کا ترجمہ ہوا ؟ تو کہا اس کا ترجمہ بندہ اور رسول کا ہو الیکن میں کچھ نہیں کہتا،حضور پر نور ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیاان کلمات کے باعث یانہیں ؟کیا کفر عائد اس پر ہوا یا نہیں؟ بینواتوجروا(بیان کرو اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی الله کے بندے نہیں وہ قطعًا کافر ہے،
|
اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،قال اﷲ تعالٰی" وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوۡہُ"[1]، وقال تعالٰی " تَبَارَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلْعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَۨا﴿۱﴾ۙ" [2]،وقال تعالٰی"سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ"[3]، وقال تعالٰی" وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا" [4]، وقال تعالٰی" اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ" [5]،وقال تعالٰی" فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی ﴿ؕ۱۰﴾"[6] |
میں گواہی دیتا ہوں بلاشبہہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ تعالٰی کے بندے اور اس کے رسول ہیں،اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور یہ کہ جب اﷲ کا بندہ ا س کی بندگی کرنے کھڑاہوا۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتاراقرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کوڈر سنانے والاہو۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:پاك ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور اگر تمہیں کچھ شك ہو اس میں جو ہم نے اپنے(ان خاص)بندے پر اتارا۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری۔اور اﷲتعالٰی نے فرمایا:اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع