30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سفاہت پر شہادت نہ دیتی اگرچہ اس سے دو ہی سطر پہلے اسی توضیح میں متن تنقیح کی عبارت ولابعض الافراد لعدم الاولیۃ[1] (اور نہ بعض افراد کیونکہ اولٰی نہیں۔ت)اس کی صفراشکنی کو بس ہوتی مگر یہ کیونکر کھلتا کہ طائفہ حائفہ کو دوست و دشمن میں تمیز نہیں صریح مضر کو نافع سمجھتاہے لہذا نام تو لیا توضیح کا اور برائے بد قسمتی عبارت نقل کر دی تلویح کی،جس میں صاف صریح ان عقلاء کی تسفیہ اور ان کے وہم کا سد کی تقبیح تھی،ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ثانیًا توضیح کا مطلب سمجھنا تو بڑی بات،خودا پنی ہی لکھا نہ سمجھا کہ جب عہد خارجی سے معنی درست ہو تو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔ہم اوپر واضح کرآئے کہ عہد خارجی مزعوم طائفہ خارجیہ سے معنی درست نہیں ہوسکتے،آیہ کریمہ قطعًا آئندہ نبوتوں کا دروازہ بند فرماتی ہے،رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہی معنی اس کے بیان فرمائے،تمام امت نے سلفًا وخلفًا اس کے یہی معنی سمجھے اور اس عہد خارجی پر آیت کو اس سے کچھ مس نہیں رہتا تو واجب ہے کہ استغراق مراد ہو، اسی تلویح میں اسی عبارت منقولہ طائفہ کے متصل ہے،
|
ثم الاستغراق الی ان قال فالاستغراق ھو المفھوم من الاطلاق حیث لاعھد فی الخارج خصوصا فی الجمع الٰی قولہ ھذا ماعلیہ المحققون[2]۔ |
پھر استغراق(تا)اطلاق سے استغراق مفہوم ہوتا ہے جہاں عہد خارجی نہ ہو خصوصا جمع میں(تا)محققین کی یہی رائے ہے(ت) |
ثالثًا بہت اچھا اگرفرض کریں کہ لام عہد خارجی کے لئے ہے تو اس سے بھی قطعًا یقینا استغراق ہی ثابت ہوگا کہ وجوہ خمسہ سے اول وسوم وپنجم کا بطلان تو دلائل قاہرہ سے اوپر ثابت ہولیا اور واضح ہوچکا کہ خود جن سے کلام الٰہی کا اولًا واصالۃً خطاب تھا یعنی حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،انہو ں نے ہرگز اس آیت سے صرف بعض افراد معینہ یا کسی جماعت خاصہ کو نہ سمجھا اب نہ رہیں،مگر وجہ دوم و چہارم یعنی وہ جو قرآن عظیم میں بروجہ اکثر واوفر ذکر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بروجہ عموم واستغراق تام ہے اسی وجہ معہود کی طرف لام النبیین مشیر ہے تو اس عہد کاحاصل بحمد اﷲ تعالٰی وہی استغراق کامل جو مسلمانوں کا عقیدہ ایمانیہ ہے یاذکر جنسی کی طرف اشارہ ہے اور ختم کا حاصل نفی معیت وبعدیت ہے،جیسے اولویت بمعنی نفی معیت وقبلیت تعریفات علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع