30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن النسائی وتفسیر ابن مردویہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی مثل بیان کرکے ارشاد فرمایا:
|
فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین[1]۔ |
تومیں وہ اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوں،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین وبارك وسلم۔ |
چہارم کا بیان اوپر گزرا،پنجم سے طائفہ کی گمراہی بھی واضح ہوچکی کہ تفسیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رد کرنے والا اجماعی قطعی امت مرحومہ کا خلاف کرنے والا سواگمراہ بددین ہونے کے کون ہوگا۔
|
" نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیۡرًا﴿۱۱۵﴾"[2]۔ |
ہم اسے اس کے حال پر چھوردیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت) |
رہی بدعقلی وہ اس کے ان شبہات واہیات،خرافات،مزخرفات کی ایك ایك ادا سے ٹپك رہی ہے جو اس نے اثبات ادعائے باطل"عہد خارجی"کے لئے پیش کئے اہلِ علم کے سامنے ایسے مہملات کیا قابل التفات،مگر حفظ عوام وازالہ اوہام کے لئے چند حروف مجمل کا ذکر مناسب واﷲ الھادی وولی الایادی(اور اﷲ تعالٰی ہی ہدایت دینے والا اور طاقتوں کا مالك ہے۔ت)شبہہ اولٰی میں اس طائفہ نے عبارت توضیح کی طرف محض غلط نسبت کی حالانکہ توضیح میں اس عبارت کا نشان نہیں بلکہ وہ اسکے حاشیہ تلویح کی ہے،
اقول اولًا: اگریہ مدعیان عقل اسی اپنی ہی نقل کی ہوئی عبارت کو سمجھتے اور قرآن عظیم میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وجوہ ذکر کو دیکھتے تو یقین کرتے کہ آیہ کریمہ" وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ"[3] (اور لیکن آپ اﷲکے رسول اور انبیاء میں سے آخری ہیں۔ت)میں لام عہد خارجی کے لئے ہونا محال ہے کہ بوجہ تنوع وجوہ ذکر وعدم اولیت وترجیح جس کا بیان مشرحًا گزرا، کمال تمیز جداسرے سے کسی وجہ معین کا امتیاز ہی نہ رہا تو یہی عبارت شاہد ہے کہ یہاں"عہدخارجی"ناممکن،کاش مکر کے لئے بھی کچھ عقل ہوتی اصلی تو اس کی جگہ توضیح ہی کی گول عبارت العھد ھوالاصل ثم الاستغراق ثم تعریف الطبیعۃ[4] (عہد اصلی ہے پھر استغراق اور پھر جنس۔ت)کی نقل ہوتی کہ خود نفس عبارت تو ان کی جہالت و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع