30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے بالخصوص مقصود بالا فادہ رکھنا قرآن عظیم تو قرآن عظیم اصلًا کسی عاقل انسان کے کلام کے لائق نہیں،نہ کہ وہ بھی مقام مدح میں کہ ؎
چشمانِ تو زیرابروانند
دندانِ تو جملہ در دہانند
(تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)
سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی،" اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ "[1](اچھی صورت۔ت)سے بعض اوضاع کا بیان ہے اسے مقام مدح میں یوں مہمل جانا گیا ہے کہ ایك عام مشترك بات کا ذکر کیا ہے بخلاف اس معنی کے کہ اس میں صراحۃًعبث موجود اور معنی مدح بھی مفقود،اور پھر عموم واشتراك بھی نقد وقت کہ ہر شے اپنے اگلے سے پچھلی ہوتی ہے غرض یہ وجہ تو یوں مندفع ہوجائے گی کہ اصلا محلِ افادہ وصالح ارادہ نہیں، اور اس طائفہ خارجیہ کے طور پر وجہ دوم کو بھی نامحتمل مان لیجئے پھر بھی اول وچہارم و پنجم سب محتمل رہیں گی اور پنجم میں خود وجوہ کثیر ہیں،کہیں"من بعد موسٰی"،کہیں"من بعد نوح"،کہیں انبیائے اسرائیل،کہیں"من بعد ھود وموسٰی"،کہیں صرف انبیائے عاد ثمود،کہیں انبیائے قوم نوح وعاد وثمود،کہیں"من بعد ابراھیم قوم لوط و مدین"وغیرذلک،بہر حال ذکر وجوہ کثیرہ مختلفہ پر آیا ہے اور یہاں کوئی قرینہ وبینہ نہیں کہ ان میں ایك وجہ کی تعیین کرے تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سے مذکور کی طرف اشارہ ہوا،پھر عہد کہاں رہا،سرے سے عہد کا مبنٰی ہی کہ تعین ہے منہدم ہوگیا کہ اختلاف وتنوع مطلقًا منافی تعین،نہ کہ اتنا کثیر،پھر عہدیت کیونکر ممکن۔
ثانیًا جب کہ اتنی وجوہ کثیرہ محتمل اور قرآن عظیم نے کوئی وجہ بیان نہ فرمائی،حدیث کا بیان صحیح تو وہی عموم واستغراق ہے کہ لانبی بعدی[2] (میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ت)کما سیأتی۔اس تقدیر پر جب اشارہ ذکر استغراق کی طرف ٹھہرا عہدو استغراق کا حاصل ایك ہوگیا اور وہی احاطہ تامہ کہ معتقد اور وہی منقطع ہوکر متشابہات سے ہوگئی،اب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا محض اقرار لفظ بے فہم معنی رہ گیا جس کی مراد کچھ معلوم نہیں،کوئی کافر خود زمانہ اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع