30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعینہٖ یہی حالت یہاں بھی ہے کہ اگرچہ بعثت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہمیشہ کے لئے دروازہ نبوت بند ہوجانا اور اس وقت سے ہمیشہ تک،کبھی کسی وقت کسی جگہ کسی صنف میں کسی طرح کی نبوت نہ ہوسکنا کچھ اس آیہ کریمہ ہی پر موقوف نہیں بلکہ اس کے ثبوت میں قاہروباہر،متوار ومتظافر،متکاثرومتواتر حدیثیں موجود اور کچھ نہ ہوتو بحمد اﷲ تعالٰی مسئلہ خود ضروریات دین سے ہے مگر آیت کے معنی متواتر،مجمع علیہ،قطعی ضروری کا انکار،اس پر کفر ثابت کرے گا اگرچہ اس کے کلام میں صراحۃً نفسِ مسئلہ کا انکار نہیں، منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہے:
|
لوقال حرمۃ الخمر لاتثبت بالقراٰن کفر ای لانہ عارض نص القراٰن وانکر تفسیر اھل الفرقان[1]۔ |
اگر کسی نے کہا شراب کی حرمت قرآن سے ثابت نہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قرآنی کے ساتھ معارضہ کیا اور اہل فرقان کی تفسیر کا انکار کیا(ت) |
فتاوٰی تتمہ میں ہے:
|
من انکر حرمۃ الخمر فی القراٰن کفر[2]۔ |
جس نے قرآن کے حوالے سے حرمت شراب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا(ت) |
اعلام امام مکی میں ہمارے علماء سے کلمات کفر بالاتفاق میں نقل کیا:
|
اوقال لم تثبت حرمۃ الخمر فی القراٰن [3]۔ |
یا اس نے کہاقرآن میں حرمت شراب کا ثبوت نہیں ہے۔ (ت) |
پھر خود فرمایا:
|
کفرزاعم انہ لانص فی القراٰن علی تحریم الخمر ظاھر،لانہ مستلزم لتکذیب القراٰن الناص فی غیرما اٰیۃ علی تحریم الخمر فان قلت غایۃ مافیہ انہ کذب وھو لایقتضی الکفر قلت ممنوع لانہ کذب |
جس نے کہا تحریم شراب پر قرآن میں کوئی نص نہیں ا س کاکافر ہونا نہایت ہی واضح ہے کیونکہ اس کا یہ قول قرآن کی تکذیب کررہاہے قرآن نے متعدد جگہ پر شراب کے حرام ہونے پر تصریح کی ہے،اگریہ کہا جائے کہ یہ صرف اتنا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جھوٹ ہوکفر کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع