30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر[1]۔ |
جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت) |
ان لعنتی اقوال،نجس ترازابوال،کے ردمیں اواخرصدی گزشتہ میں بکثرت رسائل ومسائل علمائے عرب وعجم طبع ہوچکے اور وہ ناپاك فتنے غار مذلت میں گر کر قعرِ جہنم کو پہنچے والحمدﷲرب العالمین۔اس طائفہ جدیدہ کو اگر طوائف طریدہ کی حمایت سوجھے گی تو اﷲ واحد قہار کا لشکر جرار،اسے بھی اس کی سزائے کردار پہنچانے کو موجود ہے
|
قال تعالٰی" اَلَمْ نُہۡلِکِ الْاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ ثُمَّ نُتْبِعُہُمُ الْاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾ کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیۡنَ ﴿۱۸﴾ وَیۡلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۹﴾ "[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:کیا ہم نے اگلوں کو ہلاك نہ فرمایا،پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے،مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،اس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ (ت) |
اور اگر اس طائفہ جدیدہ کی نسبت وہ تجویز واحتمال نبوت یا عدم تکفیر منکران ختم نبوت،معلوم نہ بھی ہو،نہ اس کا خلاف ثابت ہوتو اس کا آیہ کریمہ میں افادہ استغراق سے انکار اور ارادہ بعض پر اصرارکیا اسے حکم کفر سے بچالے گا کہ وہ صراحۃً آیہ کریمہ ا اس تفسیر قطعی یقینی اجماعی ایمانی کا منکر ومبطل ہے جو خود حضور پر نورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور جس پر تمام امت مرحومہ نے اجماع کیا اور بنقل متواتر ضروریاتِ دین سے ہوکر ہم تك آئی،مثلًاکوئی شخص کہے کہ شراب کی حرمت قرآن عظیم سے ثابت نہیں ائمہ دین فرماتے ہیں وہ کافر ہوگیا اگرچہ اس کے کلام میں حرمت خمر کا انکار نہ تھا،نہ تحریم خمر کا ثبوت صرف قرآن عظیم پر موقوف کہ ا س کی تحریم میں احادیث متواتر بھی موجود،اور کچھ نہ ہوتو خود اس کی حرمت ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین خصوص نصوص کے محتاج نہیں رہتے۔امام اجل ابوزکریا نووی کتاب الروضہ پھر امام ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں:
|
اذاجحد مجمعا علیہ یعلم من دین الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص اولافان جحدہ یکون کفرااھ ملتقطا[3]۔ |
جب کسی نے ایسی بات کا انکار کیا جس کا ضروریات دین اسلام میں سے ہونا متفق علیہ معلوم ہے خواہ اس میں نص ہو یا نہ ہو تو اس کا انکار کفر ہے اھ ملتقطا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع