30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولامخصوص[1]۔ |
اسے کسی تخصیص کی طرف پھیرے اس کی بات مجنون کی بك یا سرسامی کی بہك ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ اس نے نص قرآنی کو جھٹلایا جس کے بار ے میں امت کا اجماع ہے کہ اس میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص۔ |
عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں:
|
تجویز نبی مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم او بعدہ یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علٰی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذاالکلام علی ظاہرہ وھذہ احدی المسائل المشہورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲتعالٰی [2]۔ |
ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا تکذیب قرآن کو مستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا:میں پچھلا نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پرہے یعنی عموم واستغراق بلاتا ویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافرکہا فلاسفہ کو،اﷲ تعالٰی ان پر لعنت کرے۔ |
امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی کتاب المعتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:
|
بحمدہ اﷲ تعالٰی ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن ترازاں ست کہ آں را بکشف وبیان حاجت افتد،خدائے تعالٰی خبردار کہ بعد ازوے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی دیگر نباشد ومنکرایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلًا درنبوت اوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معتقد نباشد کہ اگر برسالت او معترف بودے وے را در ہرچہ ازاں خبردار صادق دانستے وبہماں جہتہاکہ از طریق تواتر رسالت او بیش مادرست شدہ ایں نیز درست شد کہ وے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باز پسیں پیغمبران ست در |
بحمداﷲ تعالٰی یہ مسئلہ اہلِ اسلام کے ہاں اتنا واضح اور آشکار ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں،اﷲ تعالٰی نے خود اطلاع فرمادی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا،اگر کوئی شخص اس کا منکر ہے تو وہ تو اصلًا آپ کی نبوت کا معتقد نہیں کیونکہ اگر آپ کی رسالت کو تسلیم کرتا تو جو کچھ آپ نے بتایا ہے اس کو حق جانتا جس طرح آپ کی رسالت و نبوت تواتر سے ثابت ہے اسی طرح یہ بھی تواتر سے ثابت ہے کہ حضور تمام انبیاء کے آخرمیں تشریف لائے ہیں اور اب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع