30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لانہ حقیقۃ التعیین وکمال التمییز[1]۔ |
حقیقت تعیین اور کمال تمیز ہے۔ |
پس جب عہد خارجی سے معنی درست ہوتو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔
دلیل دوم:نورالانوارصفحہ۸۱میں ہے:
|
یسقط اعتبار الجمعیۃ اذادخلت علی الجمع[2]۔ |
جب لام تعریف جمع پر داخل ہوتو اعتبار جمعیت ساقط ہوجاتا ہے۔ |
پس نبیین کہ صیغہ جمع ہے،جب اس پر الف لام تعریف داخل ہوا تو نبیین سے معنی جمعیت ساقط ہوگیا اور جب معنی جمعیت ساقط ہوگیا تو الف لام استغراق کا ماننا صحیح نہیں ہوسکتا۔
دلیل سوم:یہ امر مسلم ہے کہ مضاف مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے جب فردواحد اس کل کے طرف مضاف ہو جس میں وہ داخل ہے تو وہ کل من حیث ہو کل ہونے کے کل،باقی نہ رہے گا بلکہ کلیت اس کی ٹوٹ جائے گی،اور جب کلیت اس کی باقی نہ رہی تو بعضیت ثابت ہوگئی اور یہی معنی ہے عہد کا،اور اگر اس فرد مضاف کہ ہم اس کل کے شمول میں رکھیں تو تقدم الشئے علی نفسہ لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ وجود مضاف الیہ مقدم ہوتا ہے وجود مضاف پر،پس ان دلائل سے ثابت ہواکہ النبیین میں الف لام عہد خارجی کا مانناچاہئے۔
الجواب:
حضور پر نور خاتم النبیین سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیہ وعلیہم اجمعین کا خاتم یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص ہونا ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنی شك و شبہہ کو بھی راہ دے کافر مرتد ملعون ہے،آیہ کریمہ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ[3] (لیکن آپ اﷲ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔ت)وحدیث متواتر لا نبی بعدی[4] (میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ت)سے تمام امت مرحومہ نے سلفًا وخلفًایہی معنی سمجھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام انبیاء میں آخر نبی ہوئے حضور کے ساتھ یا حضور کے بعد قیام قیامت تك کسی کو نبوت ملنی محال ہے۔فتاوٰی یتیمیۃ الدہرواشباہ والنظائر وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے: وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع